کابل: افغانستان میں طالبان حکومت پر الزام ہے کہ وہ ضرورت مندوں کے لیے آنے والی امدادی اشیاء کا بڑا حصہ خود رکھ لیتی ہے۔
افغان جریدے کی رپورٹ کے مطابق قندوز میں سعودی عرب کی جانب سے فراہم کیے گئے امدادی پیکجز میں سے تقریباً نصف طالبان کے ہاتھ میں چلا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں مداخلت کے 150 واقعات میں سے 95 فیصد طالبان نے کیے، جس سے کرپشن کی نشاندہی ہوتی ہے۔
امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان امدادی سامان کو من پسند افراد میں تقسیم کرتے ہیں۔ افغان عوام کے لیے بین الاقوامی امداد 2025 میں تقریباً 10.72 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جس میں سب سے زیادہ 3.83 ارب ڈالر امریکا نے فراہم کیے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 293 ملین ڈالرز دہشت گرد نیٹ ورکس کے ہاتھ لگ چکے ہیں، جس سے افغان عوام کے لیے امدادی سرگرمیوں کی افادیت متاثر ہوئی ہے۔