واشنگٹن/کاراکاس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کی تصدیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ ان کی افواج نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کر دیا ہے۔
حملوں کی تفصیل:
• وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس اور دیگر علاقوں میں کم از کم 7 دھماکے ہوئے، شہریوں نے طیاروں اور دھوئیں کے بادل دیکھے۔
• امریکی فوج نے فضائی حملے کیے اور اہم فوجی تنصیبات اور دیگر مقامات پر کارروائی کی ہے۔
وینزویلا کا ردعمل:
• صدر مادورو نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور حملوں کو فوجی جارحیت قرار دیا ہے۔
• حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے وسائل اور تیل کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔
بین الاقوامی صورتِ حال:
• حملے کے بعد اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے مطالبات سامنے آئے ہیں، خاص طور پر لاطینی امریکی ریاست کولمبیا کی طرف سے۔
• دنیا بھر میں مختلف حکومتوں نے اس کارروائی پر ردعمل دیا ہے اور بعض نے امریکی کارروائی کی مذمت کی ہے۔
توقعات اور آئندہ پریس کانفرنس:
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 بجے وینزویلا سے متعلق پریس کانفرنس کریں گے، جس میں ممکنہ طور پر مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
پس منظر:
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ پچھلے چند ماہ سے وینزویلا کے خلاف عسکری اور اقتصادی دباؤ بڑھا رہا تھا، بشمول تیل ٹینکروں پر پابندی اور سمندری کارروائیاں، جن کا مقصد امریکہ نے منشیات اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی قرار دیا تھا۔
مجموعی صورتحال:
یہ واقعہ علاقائی اور عالمی سطح پر کشیدگی بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر لاطینی امریکہ اور یو این میں ردعمل کے پیشِ نظر۔ مزید تفصیلات سامنے آتے ہی خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا