واشنگٹن / یورپ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں ایک کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے صدر اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لینے کا اعلان کیا، جس پر دنیا کے مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے متضاد ردعمل سامنے آیا ہے۔
برطانیہ: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی کے تمام حقائق جاننے کی ضرورت ہے اور برطانیہ کسی بھی طرح اس کارروائی میں شامل نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اور اتحادی ممالک سے اس معاملے پر بات کرنا چاہتے ہیں تاکہ صورتحال واضح ہو سکے۔
یورپی یونین: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے وینزویلا کے معاملے پر ضبط و تحمل سے کام لینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مادورو کو جائز صدر نہیں مانتے اور اقتدار کی پرامن تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں۔ عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا احترام ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے وینزویلا میں یورپی شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیا۔
سپین: ہسپانوی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا کو وینزویلا کے معاملے پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ سپین نے وینزویلا کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔
اٹلی: اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ وینزویلا کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور وہاں موجود اطالوی شہریوں کی حفاظت کی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ وینزویلا میں تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار اطالوی شہری مقیم ہیں۔
یہ بین الاقوامی ردعمل اس بات کا عندیہ ہے کہ وینزویلا پر امریکی کارروائی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہے اور مختلف ممالک اس معاملے پر اعتدال اور پرامن حل کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔