وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے انہیں ان چند عالمی رہنماؤں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جنہیں امریکا نے براہِ راست حراست میں لیا۔ تاریخی طور پر امریکا نے بہت کم عالمی رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے، تاہم ایسے واقعات ہمیشہ عالمی سیاست اور متعلقہ خطوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے رہے ہیں۔
امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا پر حملہ کیا، جس کے دوران امریکی ڈیلٹا فورس نے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو صدارتی محل سے گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ان کی ہدایت پر امریکی فوج نے وینزویلا میں ایک غیرمعمولی آپریشن کیا، جس میں متعدد جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔ ان کے مطابق اس خفیہ کارروائی کی تیاری دسمبر کے اوائل میں کی گئی تھی، جبکہ امریکا آئندہ مزید کارروائیوں کے لیے بھی تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈروم سے گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں امریکا میں ان کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
مادورو کی گرفتاری کے ساتھ یہ سوال ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا ہے کہ امریکا ماضی میں کن عالمی رہنماؤں کو حراست میں لے چکا ہے۔
امریکا کی جانب سے گرفتار کیے گئے اہم عالمی رہنما
مینول نوریگا (پاناما)
1989 میں امریکا نے پاناما پر حملہ کر کے سابق فوجی حکمران مینول نوریگا کو گرفتار کیا۔ نوریگا ایک وقت میں امریکا کے اتحادی رہے تھے، تاہم بعد میں انہیں منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کے الزامات پر گرفتار کر کے میامی منتقل کیا گیا۔ وہاں مقدمہ چلنے کے بعد انہیں قید کی سزا سنائی گئی۔ مینول نوریگا کا 2017 میں پاناما کی جیل میں انتقال ہوا۔
صدام حسین (عراق)
دسمبر 2003 میں امریکا نے عراق کے سابق صدر صدام حسین کو گرفتار کیا۔ یہ گرفتاری امریکی قیادت میں عراق پر حملے کے تقریباً نو ماہ بعد عمل میں آئی۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ صدام حسین کے پاس کیمیائی اور ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار موجود ہیں، تاہم یہ دعوے ثابت نہ ہو سکے۔ بعد ازاں عراقی عدالت نے صدام حسین کے خلاف مقدمہ چلایا اور 2006 میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔
جووان اورلینڈو ہرنانڈیز (ہونڈوراس)
لاطینی امریکی ملک ہونڈوراس کے سابق صدر جووان اورلینڈو ہرنانڈیز کو 2022 میں منشیات اسمگلنگ اور بدعنوانی کے الزامات پر امریکا منتقل کیا گیا۔ تاہم بعد میں 2025 کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں متنازع طور پر معافی دے دی تھی۔
صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کو ماہرین عالمی سیاست میں ایک غیرمعمولی پیش رفت قرار دے رہے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے لاطینی امریکا اور عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔