چین نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کرے اور وینزویلا کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں بند کرے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کا وینزویلا پر فوجی حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بیان میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو طاقت کے زور پر گرفتار کر کے ملک سے باہر لے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکا فوری طور پر مادورو اور ان کی اہلیہ کو رہا کرے اور وینزویلا سے متعلق تنازع کو بات چیت اور سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کیا جائے۔
دوسری جانب روس، کولمبیا اور کیوبا نے بھی وینزویلا پر امریکی حملے کی شدید مذمت کی ہے، جبکہ ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری اجلاس بلانے، کارروائی کرنے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
چلی کے صدر گیبرئیل بورک نے امریکی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “آج وینزویلا کی باری ہے، کل کسی اور ملک کی ہو سکتی ہے۔” انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ اگر آج منشیات کے نام پر وینزویلا میں ایسا ہو سکتا ہے تو مستقبل میں کسی بھی ملک کے ساتھ کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی امریکی حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون اور عالمی ضوابط کا احترام نہیں کیا جا رہا، جو عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کرمنل الزامات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں امریکی عدالت میں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی ہدایت پر امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت میں ایک غیرمعمولی آپریشن کیا، جس میں فضائی، زمینی اور بحری طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی امریکی فوجی صلاحیتوں کا ایک شاندار مظاہرہ تھی۔
امریکی کارروائی کے بعد وینزویلا بحران عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس پر عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات مزید واضح ہو گئے ہیں۔