پاکستان اور چین نے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے اور دوطرفہ سکیورٹی و دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے بیجنگ میں منعقدہ ساتویں پاک چین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں سامنے آیا۔
اعلامیے کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے مذاکرات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال، عالمی امور اور دوطرفہ تعلقات کے تمام اہم پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
جنوبی ایشیا میں امن اور مسئلہ کشمیر پر مشترکہ مؤقف
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام، یکطرفہ اقدامات کی مخالفت اور تمام تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
ون چائنا پالیسی کی توثیق
پاکستان نے ایک بار پھر ون چائنا پالیسی کے تحت تائیوان، سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور جنوبی بحیرۂ چین سے متعلق چین کے مؤقف کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر چین نے بھی پاکستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور دہشتگردی کے خلاف جاری کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
دفاع، تجارت اور عوامی روابط میں توسیع
مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مذاکرات میں دفاعی و سکیورٹی تعاون کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، معدنی وسائل اور عوامی روابط کے فروغ پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک روابط کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی اعتماد کو نئی سطح تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔
سی پیک فیز ٹو اور گوادر پر خصوصی توجہ
پاکستان اور چین نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کو تیز کرنے، خصوصی اقتصادی زونز، زراعت، معدنیات اور گوادر پورٹ کی ترقی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
خلائی تعاون میں اہم پیش رفت
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے خلائی تعاون میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور پاکستانی خلابازوں کی مستقبل میں چینی خلائی اسٹیشن میں شمولیت کے منصوبے پر بھی اتفاق کیا، جسے پاک چین سائنسی تعاون میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا۔
75 سالہ سفارتی تعلقات کی تقریبات
مشترکہ اعلامیے میں اعلان کیا گیا کہ پاکستان اور چین 2026 میں اپنے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر خصوصی تقریبات کا آغاز کریں گے۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ پاک چین دوستی کو نسل در نسل منتقل کیا جائے گا اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کیے جائیں گے۔
اعلامیے کے اختتام پر پاک چین آہنی برادرانہ اور آل ویدر اسٹریٹجک شراکت داری کی ایک بار پھر توثیق کی گئی اور مستقبل میں تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔