وینزویلا کے صدر نکولس مادورو آج مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش ہوں گے، امریکا میں مقدمے کی تیاری مکمل

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو آج نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں واقع وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں ان پر منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت باقاعدہ مقدمہ چلائے جانے کا امکان ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی عدالتی نظام نے کیس کی ابتدائی کارروائی مکمل کر لی ہے اور عدالت میں فردِ جرم عائد کیے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

امریکا منتقلی اور حراست کی تفصیلات
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر نکولس مادورو کو اتوار کے روز امریکا منتقل کیے جانے کے بعد نیویارک کی ایک سخت سکیورٹی والی جیل میں رکھا گیا۔ رپورٹس کے مطابق انہیں اور ان کی اہلیہ کو ہفتے کے روز وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد انہیں فوری طور پر ملک سے باہر منتقل کیا گیا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

الزامات کی نوعیت
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ نکولس مادورو کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور دہشت گرد تنظیموں کی معاونت جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کیس کئی برسوں سے زیرِ تفتیش تھا اور حالیہ کارروائی اسی سلسلے کی کڑی ہے، تاہم امریکی حکام نے عدالتی کارروائی سے قبل مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا ہے۔

نیویارک میں احتجاجی مظاہرے
دوسری جانب مادورو کی گرفتاری کے خلاف نیویارک کے علاقے بروکلین میں واقع حراستی مرکز کے باہر شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے امریکا کی وینزویلا میں مبینہ مداخلت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور وینزویلا کی خودمختاری کے حق میں آواز بلند کی۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ امریکا وینزویلا کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرے اور صدر مادورو کو فوری رہا کیا جائے۔ مظاہرین نے آزادی، قومی خودمختاری اور لاطینی امریکا میں امن کے حق میں پُرجوش نعرے لگائے۔

’تیل کے لیے خون نہیں‘ کے نعرے
مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا:
• ’’وینزویلا کے تیل سے ہاتھ ہٹاؤ‘‘
• ’’تیل کے لیے خون نہیں‘‘
• ’’وینزویلا پر امریکی جنگ نامنظور‘‘
• ’’وینزویلا پر بمباری بند کرو‘‘

مظاہرین کا مؤقف تھا کہ وینزویلا کے خلاف کارروائیاں دراصل ملک کے قدرتی وسائل، خصوصاً تیل، پر قبضے کی کوشش ہیں۔

عالمی ردِعمل کا امکان
سیاسی مبصرین کے مطابق صدر مادورو کی گرفتاری اور امریکا میں عدالتی پیشی لاطینی امریکا اور عالمی سیاست میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ کئی ممالک کی جانب سے اس معاملے پر سخت ردِعمل اور سفارتی بیانات آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

فی الحال دنیا کی نظریں مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں ہونے والی کارروائی پر مرکوز ہیں، جہاں یہ کیس نہ صرف قانونی بلکہ عالمی سیاسی اہمیت بھی اختیار کر چکا ہے۔

Related posts

ایران پر ممکنہ امریکی حملہ: نیتن یاہو کی ٹرمپ سے تاخیر کی درخواست، خلیجی ممالک کی سفارتکاری بھی سرگرم

کشیدگی کے دوران ایران نے فضائی حدود عارضی بندش کے بعد دوبارہ کھول دی، فضائی آپریشن بحال

امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ فیصلہ کن حملے کے اشارے، اسرائیل میں ہنگامی دفاعی تیاریاں، یورپی ممالک کا اپنے شہریوں کے انخلا کا عمل تیز