وینزویلا بحران پر عالمی ردعمل تیز، ترک صدر کا ٹرمپ کو سخت پیغام، گرین لینڈ نے امریکی دباؤ مسترد کر دیا

انقرہ/نوک: وینزویلا میں امریکی کارروائی کے بعد عالمی سطح پر سفارتی ردعمل میں تیزی آ گئی ہے۔ ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں وینزویلا کی موجودہ صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صدر نکولس مادورو کی معزولی کے بعد ملک کو عدم استحکام کی جانب دھکیلنا خطے اور دنیا دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ترکیے وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور موجودہ نازک حالات میں ان کی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ صدر اردوان کا کہنا تھا کہ وینزویلا اور ترکیے کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ باہمی احترام اور دوستی پر مبنی رہے ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں صدر نکولس مادورو اور وینزویلا کے عوام نے مختلف مواقع پر ترک قوم کے ساتھ یکجہتی اور دوستی کا عملی مظاہرہ کیا، جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ترک صدر نے زور دیا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی عالمی نظام کے لیے خطرناک مثال بن سکتی ہے۔

صدر اردوان نے خبردار کیا کہ طاقت کے ذریعے سیاسی تبدیلیاں مسلط کرنے کے نتائج ہمیشہ تباہ کن ہوتے ہیں اور اس طرح کے اقدامات عالمی سطح پر نئے تنازعات، انسانی بحرانوں اور عدم استحکام کو جنم دے سکتے ہیں۔

دوسری جانب یورپ میں بھی امریکی بیانات کے خلاف سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جنز فریڈرک نیلسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے سے متعلق بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ “بس اب بہت ہو چکا”۔

انہوں نے واضح کیا کہ الحاق سے متعلق مزید کسی بھی قسم کی غیر سنجیدہ یا خیالی گفتگو ناقابلِ قبول ہے اور گرین لینڈ اب کسی قسم کا دباؤ برداشت نہیں کرے گا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ان کا ملک بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم مذاکرات صرف مناسب سفارتی ذرائع اور باہمی احترام کے ساتھ ہی ممکن ہوں گے۔

یورپ میں ڈنمارک کے اتحادی ممالک نے بھی گرین لینڈ کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس جزیرے کا مستقبل طے کرنے کا حق صرف اور صرف اس کے عوام کو حاصل ہے، کسی بیرونی طاقت کو اس پر فیصلہ مسلط کرنے کا اختیار نہیں۔

وزیراعظم جنز فریڈرک نیلسن نے وینزویلا سے موازنہ کیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ ایک جمہوری معاشرہ ہے اور یہاں فیصلے عوامی رائے اور آئینی طریقہ کار کے تحت کیے جاتے ہیں، نہ کہ طاقت یا دباؤ کے ذریعے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق وینزویلا اور گرین لینڈ سے متعلق یہ بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ عالمی سطح پر امریکی خارجہ پالیسی کو بڑھتی ہوئی مزاحمت کا سامنا ہے، اور کئی ممالک اب خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور عوامی حقِ خودارادیت پر کھل کر مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔

Related posts

ایران پر ممکنہ امریکی حملہ: نیتن یاہو کی ٹرمپ سے تاخیر کی درخواست، خلیجی ممالک کی سفارتکاری بھی سرگرم

کشیدگی کے دوران ایران نے فضائی حدود عارضی بندش کے بعد دوبارہ کھول دی، فضائی آپریشن بحال

امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ فیصلہ کن حملے کے اشارے، اسرائیل میں ہنگامی دفاعی تیاریاں، یورپی ممالک کا اپنے شہریوں کے انخلا کا عمل تیز