مقبوضہ بیت المقدس: مقبوضہ بیت المقدس میں آرتھوڈوکس یہودیوں کے احتجاج کے دوران ایک تیز رفتار بس مظاہرین پر چڑھ گئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب آرتھوڈوکس یہودی فوج میں لازمی بھرتی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے مرکزی شاہراہ کو بلاک کر رکھا تھا جس کے باعث علاقے میں شدید ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے بسوں پر پتھراؤ کیا، ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ ڈالی اور پولیس اہلکاروں پر بھی اشیاء پھینکیں۔ مشتعل مظاہرین کی جانب سے کچرے کے ڈبوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی سامنے آئے، جس سے علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق اسی دوران ایک بس تیز رفتاری سے مظاہرین کے ہجوم میں داخل ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر ہی ہلاک جبکہ کئی افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے بس ڈرائیور کو حراست میں لے لیا۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ حادثہ تھا یا جان بوجھ کر کیا گیا اقدام۔
پولیس نے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کرتے ہوئے اضافی نفری تعینات کر دی ہے جبکہ احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مختلف مقامات پر کارروائیاں کی گئیں۔
واضح رہے کہ آرتھوڈوکس یہودی برادری کی جانب سے فوج میں لازمی بھرتی کے قانون کے خلاف حالیہ دنوں میں احتجاج میں شدت آئی ہے، جس کے باعث مقبوضہ بیت المقدس اور دیگر علاقوں میں آئے روز جھڑپوں اور بدامنی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔