واشنگٹن / نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کے بل کی حمایت کر دی ہے، جس کے بعد عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی جبکہ بھارتی اسٹاک مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔
امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی جانب سے پیش کیے گئے اس بل کی منظوری اگلے ہفتے متوقع ہے۔ بل منظور ہونے کی صورت میں صدر ٹرمپ کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ روس سے تیل درآمد کرنے والے ہر ملک پر بھاری امریکی ٹیرف نافذ کر سکیں۔
بھارتی مارکیٹ پر فوری اثر
بھاری ٹیرف کی خبروں کے بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹ مسلسل چوتھے روز بھی کریش کر گئی۔ مارکیٹ میں شدید گراوٹ کے باعث سرمایہ کاروں کو صرف چار دن میں 9 لاکھ کروڑ بھارتی روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
بھارت پہلے ہی 50 فیصد امریکی ٹیرف کے باعث دباؤ میں ہے، جبکہ نئے ممکنہ ٹیرف نے بھارتی معیشت اور سرمایہ کاروں کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
دیگر ممالک بھی متاثر ہونے کا خدشہ
نئے ٹیرف بل کے اثرات صرف بھارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ برازیل اور چین بھی اس قانون سے متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ ممالک بھی روسی توانائی کی درآمدات میں شامل ہیں۔
عالمی سطح پر خدشات
ماہرین کے مطابق اگر بل منظور ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی تجارت، توانائی منڈیوں اور جغرافیائی سیاست میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں، جبکہ امریکہ اور متاثرہ ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔