گرین لینڈ کی خریداری کا امریکی منصوبہ بے نقاب، مقامی آبادی کو بھاری رقوم کی پیشکش پر غور

واشنگٹن: امریکا کی جانب سے گرین لینڈ کو خریدنے کے ممکنہ منصوبے سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جس نے عالمی سطح پر ایک نئی سفارتی بحث چھیڑ دی ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق امریکی حکام گرین لینڈ کی 57 ہزار کی آبادی کو براہِ راست مالی ترغیبات دینے پر غور کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی منصوبے کے تحت گرین لینڈ کے ہر شہری کو 10 ہزار ڈالر سے ایک لاکھ ڈالر تک ادائیگی کی تجویز زیر غور ہے۔ خبر ایجنسی نے امریکی صدر کے معاونین اور حکومتی حکام کے حوالے سے بتایا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد گرین لینڈ کے عوام کو ڈنمارک سے علیحدگی پر آمادہ کرنا اور امریکا میں شمولیت کے لیے قائل کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے اس اقدام کو محض معاشی یا معدنی مفادات سے جوڑنے کے بجائے اسے قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات کے تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور عسکری اہمیت کے باعث گرین لینڈ امریکا کے لیے اسٹریٹجک حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

تاہم گرین لینڈ سے متعلق امریکی عزائم پر برطانیہ اور یورپی ممالک کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ یورپی حلقوں نے اس منصوبے کو خطے کے استحکام اور بین الاقوامی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ ڈنمارک کی خودمختاری سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا کو گرین لینڈ کی ضرورت ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ یہ ضرورت معدنی وسائل کے لیے نہیں بلکہ دفاعی مقاصد کے تحت ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد ایک بار پھر گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر امریکا واقعی اس منصوبے پر عملی پیش رفت کرتا ہے تو یہ نہ صرف امریکا اور یورپ کے تعلقات بلکہ آرکٹک خطے کی جغرافیائی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

Related posts

ایران سے متعلق تمام آپشنز بدستور کھلے ہیں، صدر ٹرمپ صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں: وائٹ ہاؤس

بھارتی عدالت کا متنازع فیصلہ، حریت رہنما آسیہ اندرابی سیاسی مقدمے میں مجرم قرار

ایران پر ممکنہ امریکی حملہ: نیتن یاہو کی ٹرمپ سے تاخیر کی درخواست، خلیجی ممالک کی سفارتکاری بھی سرگرم