تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ایران میں افراتفری، فسادات اور بدامنی کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ فسادی عناصر اور دہشت گردوں سے خود کو الگ رکھیں اور انتشار پھیلانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنائیں۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ ملک کو کمزور کیا جا سکے، مگر ایرانی قوم باشعور ہے اور ایسے ہتھکنڈوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام فسادیوں کو انتشار پھیلانے کی اجازت نہ دیں اور اس بات پر یقین رکھیں کہ حکومت انصاف کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر کے قوم سے خطاب کے بعد ایرانی سفارت خانے کی جانب سے خطاب کے اہم نکات جاری کیے گئے، جن کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل اور معاشی مشکلات میں کمی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے، تاہم کسی غیر ملکی طاقت کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ قوم کے اندر نفرت اور انتشار کے بیج بوئے۔
ایرانی سفارت خانے کے بیان میں بتایا گیا کہ صدر نے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا اور تمام طبقہ ہائے فکر کو فسادات اور بدامنی کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہونے کی دعوت دی۔ صدر پزشکیان نے کہا کہ قومی اتحاد ہی ملک کو درپیش چیلنجز کا واحد حل ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے اپنے خطاب میں امریکی صدر کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا کو وینزویلا، غزہ اور دنیا کے دیگر خطوں میں کیے گئے اقدامات پر شرم آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا انسانی حقوق کی بات کرتا ہے لیکن خود دنیا بھر میں خونریزی اور تباہی کا ذمہ دار ہے۔
ایرانی صدر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک کے مسائل کے حل کے لیے متحد رہیں، کوئی شہری بےامنی نہ پھیلائے اور کوئی انسان دوسرے انسان کا قتل نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہے اور کرپشن کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ 14 روز سے جاری ہے۔ ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم کے دعوے کے مطابق دو ہفتوں سے جاری ان مظاہروں کے دوران 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔