ایران میں احتجاجی مظاہرے دو ہفتوں سے جاری، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ، امریکا کے ممکنہ اقدامات پر قیاس آرائیاں

ایران میں جاری احتجاجی مظاہرے چودھویں روز میں داخل ہو گئے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے جانی نقصان میں تشویشناک اضافے کا دعویٰ کیا ہے۔ ناروے میں قائم ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بار بار معطلی اور سخت پابندیوں کے باعث ہلاکتوں اور گرفتاریوں سے متعلق درست اور مصدقہ معلومات کا حصول ممکن نہیں ہو پا رہا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق زمینی حقائق تک رسائی محدود ہونے کے باعث صورتحال کی مکمل تصویر سامنے نہیں آ سکی۔

دوسری جانب امریکا میں سیاسی اور عسکری حلقوں میں ایران سے متعلق سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے ممکنہ آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مختلف فوجی اور غیر فوجی کارروائیوں کے حوالے سے بریفنگ دی جا چکی ہے، تاہم حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔

امریکی اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایران کی موجودہ صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، خاص طور پر احتجاجی مظاہروں اور ایرانی حکومت کے ردعمل کے تناظر میں مختلف حکمت عملیوں پر غور ہو رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایرانی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ایران ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ آزادی کا خواہاں ہے اور امریکا ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ مداخلت کا مطلب ایران میں زمینی فوجی کارروائی نہیں ہوگا۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے احتجاجی مظاہروں اور موجودہ صورتحال کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں بدامنی، انتشار اور فسادات کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کو چاہیے کہ وہ فسادی عناصر اور دہشت گردوں سے خود کو الگ رکھیں اور ملک میں افراتفری پھیلانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنائیں۔

ایرانی صدر نے زور دیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا حل انتشار نہیں بلکہ قومی اتحاد اور استحکام میں ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دشمن قوتوں کے عزائم کو سمجھیں اور ملک کے امن و سلامتی کے خلاف کسی سازش کا حصہ نہ بنیں۔

ایران میں جاری مظاہروں، بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور امریکا و اسرائیل کے سخت بیانات کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں آنے والے دنوں میں صورتحال کے ممکنہ رخ پر مرکوز ہیں۔

Related posts

ایران سے متعلق تمام آپشنز بدستور کھلے ہیں، صدر ٹرمپ صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں: وائٹ ہاؤس

بھارتی عدالت کا متنازع فیصلہ، حریت رہنما آسیہ اندرابی سیاسی مقدمے میں مجرم قرار

ایران پر ممکنہ امریکی حملہ: نیتن یاہو کی ٹرمپ سے تاخیر کی درخواست، خلیجی ممالک کی سفارتکاری بھی سرگرم