ایران اور امریکا کے درمیان بیانات کی جنگ تیز، خامنہ ای کا ٹرمپ کو سخت پیغام، واشنگٹن کی مذاکرات کی بات

تہران / واشنگٹن:
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ میں غرور اور طاقت کے نشے میں مبتلا حکمرانوں کا انجام ایک جیسا رہا ہے، اور ٹرمپ بھی اسی راستے پر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرعون، نمرود اور ایران کے سابق بادشاہ رضا شاہ کے ساتھ جو ہوا، وہی انجام ایسے ہی رویّے رکھنے والوں کا ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایک شخص طاقت اور غرور کے بل پر پوری دنیا کے فیصلے کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر اسے تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے عروج پر پہنچنے والے طاقتور حکمران بھی آخرکار زوال کا شکار ہوئے، اور کوئی بھی قانونِ قدرت سے بالاتر نہیں۔

ایران میں بدامنی کا الزام امریکا اور اسرائیل پر

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل پر ایران میں بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر پزشکیان نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل براہِ راست لوگوں کو اکسا رہے ہیں اور انہیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ ایران میں تخریب کاری کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ طاقتیں ہیں جنہوں نے ایران پر حملے کیے اور اب اندرونی انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی طاقت کو یہ اجازت نہیں دے گا کہ وہ قوم کے درمیان اختلافات اور انتشار کے بیج بوئے۔

امریکا کا مؤقف: مذاکرات کی گنجائش موجود

ادھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف انتہائی سخت اور طاقتور آپشنز پر غور کر رہا ہے، اور تمام امکانات میز پر موجود ہیں۔

ٹرمپ کے مطابق اگرچہ سفارتی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے، لیکن امریکا اپنی قومی سلامتی اور مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

خطے میں کشیدگی برقرار

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ بیانات نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایک طرف تہران امریکی قیادت پر سخت تنقید کر رہا ہے، تو دوسری جانب واشنگٹن دباؤ اور مذاکرات کی پالیسی بیک وقت اختیار کیے ہوئے ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا دونوں ممالک سفارتی راستے پر آگے بڑھتے ہیں یا لفظی جنگ عملی اقدامات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

Related posts

ایران پر ممکنہ امریکی حملہ: نیتن یاہو کی ٹرمپ سے تاخیر کی درخواست، خلیجی ممالک کی سفارتکاری بھی سرگرم

کشیدگی کے دوران ایران نے فضائی حدود عارضی بندش کے بعد دوبارہ کھول دی، فضائی آپریشن بحال

امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ فیصلہ کن حملے کے اشارے، اسرائیل میں ہنگامی دفاعی تیاریاں، یورپی ممالک کا اپنے شہریوں کے انخلا کا عمل تیز