واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں خود کو وینزویلا کے “عبوری صدر (Acting President)” کے طور پر پیش کر کے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں جنوری 2026 سے خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دیتے ہوئے ایک تصویر شیئر کی، جس میں ان کا سرکاری پورٹریٹ شامل ہے اور ساتھ ہی دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے جنوبی امریکی ملک کے عبوری انتظامات کو سنبھالا ہوا ہے۔ پوسٹ میں جے ڈی وینس کو بھی وینزویلا کا قائم مقام نائب صدر بتایا گیا ہے۔
یہ پوسٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ نے چند روز قبل وینزویلا میں فوجی کارروائی کی تھی، جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کرکے نیویارک منتقل کیا گیا۔ ان کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور دیگر سنگین الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے اور وہ امریکی عدالت میں پیش ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ کی اس پوسٹ نے بین الاقوامی سطح پر حیرت اور تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ کسی ملک کا غیر ملکی رہنما اپنی مرضی سے اسے عبوری صدر قرار دینا بین الاقوامی قانون اور روایتی سفارتی کردار کے اصولوں کے برخلاف سمجھا جاتا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے وینزویلا کے عبوری انتظامات پر بطور نگرانی دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے تحت امریکی حکام وینزویلا کے تیل کے شعبے اور وسائل کی نگرانی کرنا چاہتے ہیں، تاہم ویکیپیڈیا یا کسی مستند بین الاقوامی ادارے نے اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
وینزویلا کی عبوری حکومت کے بارے میں بھی اختلافی بیانات سامنے آئے ہیں: کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈیلسی روڈریگز نے بطور عبوری صدر حلف اٹھایا ہے، جس کے برخلاف امریکی موقف عالمی برادری میں بحث کا سبب بنا ہوا ہے۔
یہ پیش رفت عالمی سطح پر تنقید اور قانونی سوالات بھی اٹھا رہی ہے، کیونکہ عالمی اداروں اور مختلف ممالک نے امریکہ کی وینزویلا میں فوجی مداخلت اور وہاں کے صدر کی گرفتاری پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔