واشنگٹن: ایران میں بڑھتے ہوئے مظاہروں اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی ورچوئل سفارت خانے نے پیر کے روز اپنے شہریوں کو خبردار کیا کہ ملک میں جاری احتجاج تشدد میں بدل سکتے ہیں اور حکومت کی مدد پر مکمل انحصار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
امریکی سفارت خانے کا موقف
بیان میں کہا گیا کہ ایران میں موجود امریکی شہری:
• فوری طور پر ملک چھوڑ دیں
• حکومت کی مدد پر انحصار نہ کریں
• اگر ممکن ہو تو زمینی راستے سے آرمینیا یا ترکی کے راستے ایران چھوڑیں
بیان میں مزید کہا گیا کہ جو شہری ایران چھوڑنا نہیں چاہتے، وہ محفوظ جگہ پر رہیں اور احتجاج والے علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔
ایران میں صورتحال
• ملک بھر میں مظاہرے دن بہ دن بڑھ رہے ہیں اور پرتشدد ہونے کا خدشہ ہے
• متعدد افراد گرفتار اور زخمی ہو چکے ہیں
• سڑکیں بند، پبلک ٹرانسپورٹ معطل اور انٹرنیٹ کی سروس محدود ہو گئی ہے
امریکی شہریوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ ان علاقوں میں جانے سے گریز کریں جہاں مظاہرے جاری ہیں۔
پروازوں اور سفری پابندیاں
جاری بحران کے باعث کئی ایئر لائنز نے ایران کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کر دی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ پابندیاں کم از کم 16 جنوری تک برقرار رہیں گی۔
امریکی شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات
• مظاہروں اور سکیورٹی خطرات سے بچنے کے لیے فوری طور پر ایران سے نکلنے کی کوشش کریں
• اگر زمینی راستہ اختیار کریں تو سرکاری مدد پر مکمل انحصار نہ کریں
• احتجاج والے علاقوں میں جانے سے اجتناب کریں
• اگر ایران میں مقیم رہنا ضروری ہے تو گھروں میں محفوظ رہیں اور کم سے کم رابطے میں رہیں
تجزیہ
ماہرین کے مطابق ایران میں جاری مظاہروں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور حکومت کی سخت کارروائی سے پرتشدد مظاہروں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں امریکہ کی ہدایت شہریوں کی حفاظت کے لیے ایک احتیاطی اقدام ہے۔