ایران میں احتجاج پر ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت مؤقف، مظاہرین کو احتجاج جاری رکھنے کی اپیل

مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے سخت اور جارحانہ بیان دیتے ہوئے ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے محب وطن عوام پیچھے نہ ہٹیں اور اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھالیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایرانی عوام کو ان افراد کے نام یاد رکھنے چاہئیں جو قتل و غارت اور ظلم میں ملوث ہیں، کیونکہ ان کے بقول ایسے عناصر کو اس کی “بہت بڑی قیمت” ادا کرنا پڑے گی۔ ٹرمپ کے بیان کو ایران کے داخلی معاملات میں کھلی مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی تمام ملاقاتیں اور رابطے اس وقت تک منسوخ کر دیے ہیں جب تک ایران میں مظاہرین کے خلاف کارروائیاں بند نہیں کی جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں کسی بھی قسم کی سفارتی بات چیت ممکن نہیں۔

ٹرمپ نے اپنے پیغام میں مختصر مگر معنی خیز الفاظ میں لکھا کہ “مدد پہنچ رہی ہے”، تاہم انہوں نے اس مدد کی نوعیت یا تفصیلات واضح نہیں کیں۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ امریکا ایران کے معاملے میں مزید سخت اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان پر سخت ردعمل آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران میں جاری احتجاج، عالمی بیانات اور ممکنہ امریکی اقدامات پر صورتحال تیزی سے بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔

عالمی برادری ایران کی صورتحال اور امریکا کے حالیہ مؤقف پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ خطے میں عدم استحکام کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

Related posts

ایران پر ممکنہ امریکی حملہ: نیتن یاہو کی ٹرمپ سے تاخیر کی درخواست، خلیجی ممالک کی سفارتکاری بھی سرگرم

کشیدگی کے دوران ایران نے فضائی حدود عارضی بندش کے بعد دوبارہ کھول دی، فضائی آپریشن بحال

امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ فیصلہ کن حملے کے اشارے، اسرائیل میں ہنگامی دفاعی تیاریاں، یورپی ممالک کا اپنے شہریوں کے انخلا کا عمل تیز