تہران: ایران نے امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث عارضی طور پر بند کی گئی اپنی فضائی حدود دوبارہ کھول دی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فضائی حدود تقریباً پانچ گھنٹے تک بند رہنے کے بعد بحال کر دی گئی، جس کے بعد فضائی آمدورفت بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئی ہے۔
اس سے قبل ایران نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی فضائی حدود ہر قسم کی پروازوں کے لیے عارضی طور پر بند کر دی تھیں، تاہم ایک ایڈوائزری کے تحت اجازت کے ساتھ صرف بین الاقوامی پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ فضائی حدود کی بندش کے باعث متعدد بین الاقوامی اور علاقائی پروازیں متاثر ہوئیں، جبکہ کئی ایئرلائنز کو متبادل روٹس اختیار کرنا پڑے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا تھا، جس کا مقصد فضائی سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔ ایرانی حکام کی جانب سے فضائی حدود کی بحالی کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرول حکام کو فلائٹ آپریشن دوبارہ منظم کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی فضائی صنعت پر اثرات برقرار ہیں۔ جرمن ائیرلائن نے اسرائیل کے لیے رات کی تمام پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جو 19 جنوری تک بند رہیں گی۔ ایئرلائن انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ مسافروں اور عملے کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ادھر امریکا پہلے ہی اپنی کمرشل ایئرلائنز کو ایرانی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک چکا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق موجودہ حالات میں ایرانی فضائی حدود کا استعمال سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتا ہے، اسی لیے متبادل فضائی راستوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی کے اثرات فضائی آمدورفت، عالمی تجارت اور مسافروں کی نقل و حرکت پر پڑ رہے ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں صورتحال کے مزید حساس ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔