واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے تمام آپشنز بدستور کھلے رکھے ہیں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران میں جاری حالات، بالخصوص مظاہرین کے خلاف کارروائیوں، پر امریکی انتظامیہ سخت تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی پریس بریفنگ کے دوران کیرولائن لیویٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم ایران کی صورتحال کا مسلسل اور باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے واقعات جاری رہنے پر امریکی صدر کی جانب سے ایران کو سنگین نتائج سے خبردار کیا جا چکا ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا کہ امریکی دباؤ کے نتیجے میں ایران میں 800 افراد کی سزائے موت روکی گئی ہے، جسے وہ سفارتی اور بین الاقوامی دباؤ کی کامیابی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کا عمل بھی جاری ہے تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔
کیرولائن لیویٹ نے مزید کہا کہ امریکا خطے میں استحکام کا خواہاں ہے، تاہم ایران کی جانب سے انسانی حقوق اور داخلی صورتحال میں بہتری کے بغیر نرمی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
دوسری جانب برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس تبدیلی کے پیچھے خلیجی ممالک کی سفارتی کوششیں کارفرما ہیں، جنہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکا سے رابطے کیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی بیانات اور سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ واشنگٹن ایک جانب دباؤ کی پالیسی جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب خطے میں براہِ راست تصادم سے گریز بھی اس کی ترجیح ہے۔