وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے تحت غزہ کے لیے قائم کیے گئے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے ارکان کے ناموں کا باضابطہ اعلان کر دیا

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے تحت غزہ کے لیے قائم کیے گئے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے ارکان کے ناموں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس بورڈ کو غزہ میں سکیورٹی، انسانی امداد، تعمیر نو اور نظم و نسق سے متعلق معاملات میں کلیدی کردار سونپا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق میجر جنرل جیسپر جیفرز کو عالمی استحکام فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے، جو غزہ میں امن و سلامتی کے انتظامات کی نگرانی کریں گے۔ اس کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد و سابق سینئر مشیر جیرڈ کشنر کو بھی بورڈ آف پیس کی رکنیت دی گئی ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ آریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام کو بورڈ کے سینئر مشیر مقرر کیا گیا ہے، جو پالیسی اور حکمت عملی سے متعلق معاملات پر رہنمائی فراہم کریں گے۔ جبکہ نکولے ملادینوف کو بورڈ آف پیس کا ایگزیکٹو رکن نامزد کیا گیا ہے، جو غزہ کے لیے نمائندۂ اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں گے اور عملی سطح پر منصوبوں کی نگرانی کریں گے۔

بورڈ میں بین الاقوامی سطح کی معروف شخصیات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر، معروف سرمایہ کار مارک روون، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ان شخصیات کی شمولیت کا مقصد غزہ کی بحالی اور طویل المدتی استحکام کے لیے عالمی تجربے سے فائدہ اٹھانا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ غزہ میں ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا قیام ٹرمپ کے امن منصوبے کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ بورڈ نہ صرف سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرے گا بلکہ فلسطینی اتھارٹی اور غزہ میں نظم و حکومت کے ڈھانچے میں اصلاحات کی راہ بھی ہموار کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس کے ارکان کے نام جلد جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد اب وائٹ ہاؤس اس حوالے سے تفصیلات سامنے لا رہا ہے۔

Related posts

عباس عراقچی نے امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والی 160 طالبات کی قبروں کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئرکردی

چین کا ایران میں جاری فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار

ایران کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں کے تناظر میں خبردار سخت ترین حملے ابھی باقی ہیں،مارک روبیو