تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں حالیہ پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں ہونے والی اموات، مالی نقصانات اور ایرانی عوام پر لگائے جانے والے الزامات کے پیچھے براہِ راست امریکی صدر کا کردار موجود ہے۔
سپریم لیڈر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہروں کے دوران جانوں کے ضیاع اور بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات کی ذمہ داری ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے، جو ذاتی طور پر حالیہ فسادات میں ملوث رہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق مظاہروں کے دوران ایران کو دانستہ طور پر عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل اور امریکا سے وابستہ عناصر نے ملک میں بدامنی پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور ہزاروں افراد ہلاک کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں منظم اور بیرونی سرپرستی کے تحت کی گئیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے واضح کیا کہ ایران ملک کو جنگ کی طرف نہیں لے جانا چاہتا، تاہم ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ملوث مجرم عناصر کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے عوام کے تحفظ اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے بھی علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ ایران میں ہونے والے پُرامن احتجاج کو صیہونی حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر نے پُرتشدد بنا دیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق تشدد اور دہشت گردی میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں، جنہیں عالمی برادری کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ایرانی دفتر خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف قومی سلامتی کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا اور ایران اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی قیادت کے سخت بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، تاہم ایران کی جانب سے جنگ سے گریز اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔