پاکستان سے شکست کے باوجود بھارتی جنگی جنون برقرار، 100 سے زائد رافیل طیارے خریدنے کی تیاری

نئی دہلی: پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک فوجی ناکامی کے باوجود بھارت نے خطے میں اسلحہ کی دوڑ کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بھارتی حکومت نے فرانسیسی ساختہ جدید لڑاکا طیاروں رافیل کی بڑی کھیپ خریدنے اور ان کی مقامی سطح پر تیاری کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

بلومبرگ نیوز کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے 114 رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری اور مشترکہ پیداوار کے منصوبے پر اصولی منظوری دے دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ڈیفنس پروکیورمنٹ بورڈ نے فرانسیسی دفاعی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن سے طیاروں کی خریداری کی تجویز کو کلیئر کر دیا ہے۔

بلومبرگ سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ بھارتی حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ فیصلہ فضائی طاقت میں اضافے اور پرانے لڑاکا طیاروں کے متبادل کے طور پر کیا گیا ہے۔ تاہم بھارتی وزارت دفاع اور بھارتی فضائیہ نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت 114 میں سے چند طیارے فرانس میں تیار کیے جائیں گے، جبکہ باقی اکثریت بھارت میں ہی تیار کی جائے گی۔ اس منصوبے میں فرانسیسی کمپنی کی جانب سے بھارتی شراکت داروں کو ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہوگی، جسے نئی دہلی اپنی دفاعی صنعت کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت نے 2015 میں فرانس کے ساتھ 126 رافیل طیاروں کی خریداری کا ایک بڑا معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔ اس معاہدے کی منسوخی کی وجہ نئی دہلی میں تیار ہونے والے طیاروں کے معیار، قیمت اور ذمہ داری کے تعین پر طویل مذاکرات اور اختلافات تھے، جو کئی برس تک حل نہ ہو سکے۔

بلومبرگ کے مطابق بھارت کے پاس اس وقت پہلے ہی 36 رافیل طیارے موجود ہیں، جب کہ رواں سال اپریل میں نئی دہلی نے رافیل کے 26 بحری ورژن خریدنے کا معاہدہ بھی کیا تھا، جنہیں بھارتی بحریہ کے طیارہ بردار بحری جہازوں پر تعینات کیا جانا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون آئندہ ماہ بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس دورے کے دوران دفاعی تعاون اور رافیل معاہدے پر پیش رفت ہو سکتی ہے۔

اگرچہ روس بدستور بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران نئی دہلی نے ماسکو سے فوجی سازوسامان کی خریداری میں نمایاں کمی کی ہے اور اب زیادہ توجہ مغربی ممالک خصوصاً فرانس اور امریکا کی جانب مبذول کر رہا ہے۔

بلومبرگ نیوز کے مطابق رافیل طیاروں کے حتمی معاہدے پر دستخط اور ان کی ترسیل شروع ہونے سے قبل ابھی کئی اہم مراحل باقی ہیں، جن میں قیمتوں پر حتمی مذاکرات، صنعتی شراکت داری کی تفصیلات اور بھارتی کابینہ کی منظوری شامل ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے اس بڑے دفاعی منصوبے کی منظوری خطے میں اسلحے کی دوڑ کو مزید تیز کر سکتی ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں یہ فیصلہ جنوبی ایشیا کی سلامتی کی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

Related posts

ٹرمپ کا ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا بیان، تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

ایران میں پُرتشدد مظاہروں کے ذمہ دار ٹرمپ ہیں، امریکی و اسرائیلی عناصر فسادات میں ملوث ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

پانی کا بحران جنوبی ایشیا کے لیے بڑا انسانی خطرہ بن سکتا ہے، بھارتی اقدامات علاقائی کشیدگی بڑھا رہے ہیں: دی نیشنل انٹرسٹ