ٹرمپ کا ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا بیان، تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق ایک سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران میں نئی قیادت کی تلاش کی جائے۔ ان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں حکومت مخالف ملک گیر احتجاج کی شدت میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور ایرانی حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ صورتحال مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہے۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور ممکنہ فوجی مداخلت کی دھمکیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ گزشتہ منگل کو انہوں نے ایرانی عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ احتجاج جاری رکھیں اور ریاستی اداروں پر قبضہ کریں، جبکہ یہ بھی کہا کہ ان کی مدد راستے میں ہے۔ اس بیان کو ایران کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت کے طور پر دیکھا گیا۔

تاہم اگلے ہی روز صدر ٹرمپ نے اپنے مؤقف میں اچانک نرمی لاتے ہوئے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ایران میں ہلاکتیں رک چکی ہیں اور حکومت کی جانب سے پھانسیوں کا سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کے اس بیان نے امریکی مؤقف میں تضاد سے متعلق سوالات کو جنم دیا۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر نے ایک تازہ بیان میں ملک میں ہونے والی ہلاکتوں اور بدامنی کا ذمہ دار براہ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ بیرونی بیانات اور دباؤ نے حالات کو مزید کشیدہ کیا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کے اس الزام کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے حکمران اقتدار برقرار رکھنے کے لیے جبر اور تشدد پر انحصار کرتے ہیں، جس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی قیادت خوف یا موت کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کے احترام سے قائم ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ حکمرانوں کو اقتدار بچانے کے لیے ہزاروں افراد کو قتل کرنے کے بجائے ملک کو بہتر طریقے سے چلانے پر توجہ دینی چاہیے، جیسا کہ وہ امریکا میں کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ناقص قیادت کی وجہ سے ایران دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں عام شہریوں کے لیے زندگی مشکل بنا دی گئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات ایران اور امریکا کے تعلقات میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ خطے میں پہلے ہی عدم استحکام پایا جاتا ہے۔ ایران کی جانب سے بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکی بیانات کا سفارتی اور سیاسی سطح پر جواب دے سکتا ہے۔

بین الاقوامی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ لفظی جنگ عملی اقدامات میں تبدیل ہوتی ہے یا دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کی طرف بڑھتے ہیں۔

Related posts

پاکستان سے شکست کے باوجود بھارتی جنگی جنون برقرار، 100 سے زائد رافیل طیارے خریدنے کی تیاری

ایران میں پُرتشدد مظاہروں کے ذمہ دار ٹرمپ ہیں، امریکی و اسرائیلی عناصر فسادات میں ملوث ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

پانی کا بحران جنوبی ایشیا کے لیے بڑا انسانی خطرہ بن سکتا ہے، بھارتی اقدامات علاقائی کشیدگی بڑھا رہے ہیں: دی نیشنل انٹرسٹ