اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے قائم کیے گئے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو شمولیت کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان کو اس بین الاقوامی بورڈ میں شامل ہونے کی سرکاری دعوت موصول ہو چکی ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے ہونے والی عالمی کوششوں میں ہمیشہ متحرک کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے، امن و استحکام اور تعمیر نو کے عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا مستقل اور منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے سفارتی کاوشوں کی مکمل حمایت کرتا رہے گا اور اس حوالے سے اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس بورڈ کا مقصد غزہ میں سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے، جبکہ فلسطینی اتھارٹی اور حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات کی راہ ہموار کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس کی تشکیل کو مسترد کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بورڈ کی تشکیل کے حوالے سے اسرائیل سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور یہ اقدام اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔
اسرائیلی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اٹھائیں گے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ غزہ سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی انتظام میں اسرائیل کی شمولیت اور رضامندی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کو غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت خطے میں پاکستان کے سفارتی کردار اور مسئلہ فلسطین پر اصولی مؤقف کا اعتراف ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے مخالفت اس منصوبے کے مستقبل پر سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتی ہے۔