طالبان حکومت کی بجٹ ترجیحات پر سوالات، 88 فیصد اخراجات غیرترقیاتی مدات پر خرچ ہونے کا انکشاف

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کی مالی پالیسیوں سے متعلق ایک تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان رجیم نے قومی بجٹ کا 88 فیصد حصہ غیرترقیاتی سرگرمیوں پر خرچ کر دیا، جبکہ ترقیاتی اور فلاحی منصوبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کا ترقیاتی بجٹ 131 ارب افغانی سے کم ہو کر صرف 24 ارب افغانی تک محدود ہو گیا ہے۔ اس نمایاں کمی کے باعث 60 ارب افغانی مالیت کے متعدد منصوبے عملی شکل اختیار نہ کر سکے اور بیشتر منصوبے محض علامتی اعلانات تک محدود ہو کر رہ گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے معاشی ترقی، تعلیم، صحت اور سماجی بہبود جیسے اہم شعبوں کو ترجیحی فہرست سے خارج کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی سطح پر معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کے جنرل ڈائریکٹوریٹ میں بجٹ سے متعلق 4.1 ارب افغانی کی مبینہ ہیرپھیر کا بھی انکشاف ہوا ہے، جس نے حکومتی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبان حکومت نے اپنے جنگجوؤں کے لیے بجٹ کا ایک بڑا حصہ مختص کیا، جبکہ طالبان سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی سکیورٹی پر بھی اربوں افغانی خرچ کیے گئے۔ ناقدین کے مطابق ان ترجیحات نے عوامی فلاح کے بجائے حکومتی اور عسکری اخراجات کو فوقیت دی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں اس قدر شدید کمی افغانستان کی پہلے سے کمزور معیشت، بے روزگاری اور غربت میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی طالبان حکومت کی اقتصادی حکمت عملی پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Related posts

ایپسٹین فائلز: پاکستان براہِ راست نمایاں نہیں، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام سامنے آگئے

کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جائے، پاک بھارت میچ کا بائیکاٹ ویک اپ کال ہے: ششی تھرور

بلوچستان میں دہشت گردی پر سعودی عرب اور قطر کی سخت مذمت، پاکستان سے بھرپور یکجہتی کا اظہار