امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا گرین لینڈ کے حصول کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم انہوں نے ڈنمارک پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فوری مذاکرات کا آغاز کرے، کیونکہ مزید تاخیر قابل قبول نہیں ہوگی۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم سے ایک گھنٹے سے زائد طویل خطاب میں صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کو عالمی سلامتی اور نیٹو کے دفاع کے لیے انتہائی اہم خطہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈنمارک پر سخت تنقید، ’ناشکرا‘ قرار دے دیا
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ڈنمارک کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’ناشکرا‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈنمارک گرین لینڈ چھوڑنے سے انکار کر رہا ہے، حالانکہ اس وسیع اور برفانی خطے کی سلامتی کی ضمانت صرف امریکا ہی دے سکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنا امریکا کی سلامتی اور نیٹو کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
طاقت کے استعمال سے انکار، مگر دباؤ برقرار
اگرچہ ماضی میں صدر ٹرمپ گرین لینڈ پر کنٹرول کے لیے طاقت کے استعمال کے اشارے دے چکے ہیں، تاہم اس بار انہوں نے اس امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا:
“شاید ہمیں اس وقت تک کچھ حاصل نہ ہو جب تک ہم اپنی طاقت ظاہر نہ کریں اور اس وقت ہمیں کوئی روک نہیں سکے گا، لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔”
ان کا کہنا تھا کہ انہیں طاقت کے استعمال کی ضرورت نہیں اور وہ ایسا کرنا بھی نہیں چاہتے، تاہم امریکا کا مطالبہ واضح ہے کہ گرین لینڈ اسے حوالے کیا جائے۔
مذاکرات سے انکار کی صورت میں نتائج کی وارننگ
امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن فوری طور پر گرین لینڈ کے حصول پر مذاکرات چاہتا ہے اور اگر ڈنمارک نے انکار کیا تو امریکا اسے یاد رکھے گا۔ ان کے اس بیان کو سفارتی دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نیٹو کے دفاع کا جواز
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا گرین لینڈ میں موجود ہوگا تو وہ نیٹو ممالک کی 100 فیصد حفاظت کر سکے گا۔ انہوں نے تاریخی تناظر میں کہا کہ امریکا نے جرمنی اور جاپان کو شکست دے کر گرین لینڈ حاصل کیا تھا، جس سے اس خطے کی عسکری اہمیت واضح ہوتی ہے۔
نیٹو کے سامنے دو آپشن
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نیٹو کو یہی پیغام دے رہا ہے کہ گرین لینڈ کو دفاعی مقاصد کے لیے حاصل کیا جائے۔ ان کے بقول نیٹو کے پاس اس معاملے پر صرف دو آپشن ہیں:
“یا ہاں کریں یا نہ کریں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے نیٹو کے لیے جو کچھ کیا، اس کے بدلے گرین لینڈ مانگنا کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں۔