ترکیے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ عالمی فورم ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت باضابطہ طور پر قبول کرلی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکیے کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اس اہم عالمی فورم میں صدر رجب طیب اردوان کی نمائندگی کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے عالمی سطح پر امن، سفارت کاری اور تنازعات کے حل کے لیے قائم کیے گئے اس بورڈ میں متعدد عالمی رہنماؤں کے ساتھ ترک صدر اردوان کو بھی شرکت کی دعوت دی تھی۔ ترک صدر نے پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ترکیے کی جانب سے وزیر خارجہ ہاکان فیدان ’بورڈ آف پیس‘ کا حصہ بنیں گے۔
’بورڈ آف پیس‘ کی باضابطہ تقریب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقد ہوگی۔ یہ تقریب عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر منعقد کی جا رہی ہے، جس میں دنیا بھر سے سیاسی، معاشی اور سفارتی شخصیات شریک ہوں گی۔
ترک وزارت خارجہ کے مطابق ہاکان فیدان نہ صرف دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے بلکہ ’بورڈ آف پیس‘ کے اجلاسوں میں اعلیٰ سطح پر ترکیے کے مؤقف اور سفارتی ترجیحات کی نمائندگی بھی کریں گے۔ ترکیے کی شمولیت کو خطے اور عالمی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ہاکان فیدان اس سے قبل بھی عالمی سطح پر اہم سفارتی کردار ادا کر چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وہ ایک علیحدہ ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ کے بھی رکن ہیں، جس میں امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ اس فورم کا مقصد غزہ سے متعلق سیاسی و انسانی معاملات پر پالیسی سازی اور مشاورت بتایا جاتا ہے۔
ادھر امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کے مطابق اب تک دنیا کے 20 سے 25 عالمی رہنما ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان میں پاکستان، متحدہ عرب امارات، بحرین، آذربائیجان، اسرائیل، مراکش اور مصر جیسے ممالک بھی شامل ہیں، جو اس فورم کی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق ترکیے کی شمولیت سے ’بورڈ آف پیس‘ کی سفارتی حیثیت مزید مضبوط ہو گئی ہے، جبکہ یہ اقدام مشرق وسطیٰ اور عالمی تنازعات کے حل میں ترکیے کے فعال کردار کی عکاسی بھی کرتا ہے۔