روس کے دارالحکومت ماسکو میں رواں ماہ ہونے والی شدید برف باری نے موسمی تاریخ کا ایک اہم ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق شہر میں ہونے والی برف باری گزشتہ دو صدیوں سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔
تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ آبادی پر مشتمل اس میگا سٹی کے مرکزی اور مضافاتی علاقوں میں سڑکوں پر برف کے بڑے بڑے ڈھیر لگ گئے، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد اہم شاہراہیں جزوی طور پر بند رہیں جبکہ پیدل چلنے والوں کے لیے بھی نقل و حرکت دشوار ہو گئی۔
شدید برف باری کے باعث ماسکو اور اس کے گرد و نواح میں چلنے والی مسافر ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوئیں، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں گاڑیاں طویل ٹریفک جام میں پھنسی رہیں۔ بلدیاتی عملے کو برف ہٹانے کے لیے اضافی مشینری اور افرادی قوت تعینات کرنا پڑی۔
ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے موسمیاتی ماہرین کے مطابق رواں برس جنوری کا مہینہ غیر معمولی طور پر سرد اور برف باری کے اعتبار سے انتہائی شدید رہا۔ یونیورسٹی کی موسمیاتی آبزرویٹری کے مطابق 29 جنوری تک تقریباً 92 ملی میٹر بارش اور برفباری ریکارڈ کی جا چکی ہے، جو گزشتہ 203 برسوں میں سب سے زیادہ مقدار ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قدر شدید برف باری نہ صرف روزمرہ زندگی بلکہ شہری انفراسٹرکچر کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہوئی ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ایسے غیر معمولی موسموں کے امکانات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں روس کے مشرقی علاقے کامچاٹکا میں بھی شدید برفانی طوفان کے باعث ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی تھی۔ اس طوفان کے دوران برف کے اتنے بڑے ڈھیر جمع ہو گئے تھے کہ کئی عمارتوں کی دوسری منزل تک برف نظر آنے لگی تھی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں ماسکو اور کامچاٹکا کے مختلف علاقوں میں سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں کو مکمل طور پر برف میں دبا ہوا دیکھا جا سکتا ہے، جس نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں بھی سردی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے پیشِ نظر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔