اسلام آباد: عالمی معیشت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے جہاں دہائیوں سے قائم امریکی ڈالر کی بالادستی کو سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ دنیا کے کئی بڑے اور ابھرتے ہوئے معاشی کھلاڑی اب اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ کیا عالمی تجارت اور مالیاتی تحفظ کو صرف ایک ملک کی کرنسی کے رحم و کرم پر چھوڑنا محفوظ فیصلہ ہے؟
ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک نے حالیہ برسوں میں اپنے مالیاتی ڈھانچے پر نظرِ ثانی شروع کر دی ہے۔ ان ریاستوں کی کوشش ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر، تجارتی ادائیگیوں اور سرمایہ کاری کو متبادل راستوں پر استوار کیا جائے تاکہ کسی ایک طاقت پر انحصار کم ہو سکے۔
بھارت، چین اور برکس کی مشترکہ سمت
اس تبدیلی میں چین، بھارت اور برکس ممالک نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے گزشتہ ایک سال کے دوران 50 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کیے، جس کے نتیجے میں اس کے امریکی اثاثوں میں تقریباً 21 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ کمی گزشتہ چار برسوں میں سالانہ بنیادوں پر سب سے بڑی کمی سمجھی جا رہی ہے۔
چین نے بھی اسی راہ کو اختیار کرتے ہوئے اکتوبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان 71 ارب ڈالر مالیت کے امریکی قرضہ جاتی بانڈز سے جان چھڑا لی۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام محض مالی فیصلہ نہیں بلکہ طویل المدتی اسٹریٹجک سوچ کا حصہ ہے۔
برکس ممالک نے مجموعی طور پر صرف ایک ماہ میں اپنے امریکی ٹریژری ذخائر میں 29 ارب ڈالر کی کمی کی، جو اس بات کی علامت ہے کہ ریزرو مینجمنٹ میں ایک خاموش مگر مربوط تبدیلی جاری ہے۔
امریکی معیشت پر دباؤ میں اضافہ
ڈالر کے گرد بڑھتے خدشات کی ایک بڑی وجہ امریکی معیشت کو درپیش اندرونی مسائل بھی ہیں۔ امریکی حکومتی قرضہ 38 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ شرحِ سود میں غیر یقینی صورتحال، بانڈ مارکیٹ میں مندی اور قرض لینے کی بڑھتی لاگت سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہی ہے۔
پابندیاں اور جغرافیائی سیاست
جغرافیائی سیاسی تناؤ نے بھی ڈالر پر اعتماد کو کمزور کیا ہے۔ روس کے ڈالر اثاثوں کا منجمد کیا جانا اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ امریکی مالیاتی نظام کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس نے کئی ممالک کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
سونے کی واپسی
ان حالات میں سونا ایک بار پھر عالمی زرمبادلہ کے ذخائر کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سونا نہ تو کسی ملک کے دیوالیہ ہونے سے متاثر ہوتا ہے اور نہ ہی اس پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، اسی لیے غیر یقینی عالمی ماحول میں یہ محفوظ اثاثہ سمجھا جا رہا ہے۔
مقامی کرنسیوں اور ڈیجیٹل نظام کی طرف پیش رفت
ڈالر سے ہٹنے کا عمل صرف ذخائر تک محدود نہیں رہا بلکہ تجارتی ادائیگیوں میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ چین اب 40 سے زائد ممالک کے ساتھ یوآن میں تجارت کر رہا ہے، جبکہ بھارت نے 20 ممالک کے بینکوں کے ساتھ خصوصی روپیہ اکاؤنٹس قائم کیے ہیں۔
اسی تناظر میں بھارت نے برکس ممالک کے لیے ڈیجیٹل کرنسی نیٹ ورک کی تجویز دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’پروجیکٹ ایم برج‘‘ کے تحت مرکزی بینکوں کی ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کے تجربات کیے جا رہے ہیں، جنہیں سونے اور قومی کرنسیوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔
مستقبل کی تصویر
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر فوری طور پر عالمی منظرنامے سے غائب نہیں ہو گا، تاہم اس کی بلا شرکت غیرے حکمرانی کا دور اختتام کے قریب ہے۔ جے پی مورگن کی ماہرِ معاشیات جوائس چانگ کے مطابق ڈالر مستقبل میں بھی ایک اہم عالمی کرنسی رہے گا، مگر اب وہ واحد غالب کرنسی نہیں رہے گا۔
عالمی مالیاتی نظام ایک نئے، زیادہ متوازن اور کثیر کرنسی دور میں داخل ہو رہا ہے، جہاں طاقت کا ارتکاز بتدریج تقسیم ہو رہا ہے۔