اسلام آباد / ریاض / دوحہ: بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر عالمی سطح پر ردِعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ سعودی عرب اور قطر نے دہشت گردانہ کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام اور حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
سعودی عرب کا دوٹوک مؤقف
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بلوچستان میں دہشت گردوں کی پُرتشدد کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب پاکستان میں معصوم جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتا ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی کو مسترد کرتا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک مؤثر اور بہترین حکمت عملی کے تحت مقابلہ کر رہا ہے۔
بیان کے مطابق،
“سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔”
قطر کی جانب سے بھی مذمت اور ہمدردی
قطر نے بھی بلوچستان میں پیش آنے والے دہشت گردانہ واقعات کی سخت مذمت کی ہے۔ قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قطر ہر قسم کے تشدد، دہشت گردی اور مجرمانہ کارروائیوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، چاہے وہ کہیں بھی اور کسی بھی مقصد کے تحت کیوں نہ کی جائیں۔
قطری وزارتِ خارجہ نے واقعے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین، پاکستانی عوام اور حکومت کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ بیان میں زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا بھی اظہار کیا گیا۔
عالمی برادری کی توجہ بلوچستان پر مرکوز
سیاسی مبصرین کے مطابق سعودی عرب اور قطر کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اب بین الاقوامی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کی جانب سے پاکستان کے ساتھ کھل کر اظہارِ یکجہتی خطے میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف کو مضبوط کرتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد
واضح رہے کہ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑ رہا ہے، جس میں سکیورٹی فورسز اور عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ حالیہ واقعات کے بعد پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی گئی ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے مؤقف کو حمایت مل رہی ہے۔