نئی دہلی: بھارت کے سینئر سیاستدان اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کرکٹ میں سیاسی مداخلت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ تمام متعلقہ فریقوں کے لیے ایک واضح ویک اپ کال ہونا چاہیے۔
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ کے بائیکاٹ کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے ششی تھرور نے کہا کہ کھیل کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے بنگلا دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کو کولکتہ میں کھیلنے کے معاہدے سے محروم کیے جانے کو بدقسمت فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
ششی تھرور کا کہنا تھا کہ مستفیض الرحمان کو سیاسی دباؤ کے باعث معاہدے سے نکالنا مناسب نہیں تھا اور یہی سیاسی مداخلت کرکٹ کے ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کے مطابق بنگلا دیش کا ردعمل غیر متناسب تھا، جبکہ پاکستان نے بنگلا دیش کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر یہ قدم اٹھایا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ کرکٹ کو سیاست کے تناظر میں دیکھنا شرمناک ہے اور یہ معاملہ اب قابو سے باہر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل، بالخصوص کرکٹ، عوام کے لیے جذباتی اور سماجی طور پر غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، جسے تنازعات کا شکار نہیں بنانا چاہیے۔
ششی تھرور نے زور دیا کہ کھیل کا میدان قوموں کو قریب لانے کا ذریعہ ہونا چاہیے نہ کہ اختلافات کو مزید ہوا دینے کا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال تمام فریقوں کے لیے ایک سنجیدہ تنبیہ ہے اور ضروری ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر بات چیت کے ذریعے اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 6 فروری سے بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے، جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ 15 فروری کو ہونا تھا۔ تاہم گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی سے ملاقات کے بعد قومی ٹیم کو ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دے دی، البتہ بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان برقرار رکھا گیا ہے۔
پاک بھارت میچ کے بائیکاٹ اور اس پر عالمی ردعمل نے ایک بار پھر کرکٹ اور سیاست کے گہرے تعلق پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس پر آنے والے دنوں میں آئی سی سی اور دیگر متعلقہ فریقوں کے فیصلے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔