نئی دہلی/لاہور — آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شیڈول اہم میچ سے متعلق غیر یقینی صورتحال ختم ہونے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے نائب صدر راجیو شکلا نے مذاکرات کے نتیجے کو عالمی کرکٹ کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام فریقین کی مشترکہ کوششوں اور آئی سی سی کی ثالثی کے باعث مسئلہ حل ہوا، جس سے کرکٹ کو ترجیح دینے کا مثبت پیغام ملا۔
کرکٹ کی اہمیت کو ترجیح دینے پر خوشی کا اظہار
راجیو شکلا نے کہا کہ پاکستان، آئی سی سی اور دیگر متعلقہ بورڈز کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے پر انہیں خوشی ہے، کیونکہ باہمی رضامندی سے حل نکالنا کھیل کے مفاد میں تھا۔ ان کے مطابق اس پورے عمل کو آئی سی سی کے چیئرمین نے خود سپروائز کیا، جبکہ آئی سی سی کے نمائندے لاہور جا کر پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ سے تفصیلی بات چیت کرتے رہے۔
آئی سی سی کا کردار فیصلہ کن قرار
بی سی سی آئی نائب صدر نے کہا کہ عالمی کرکٹ کونسل نے مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے اور بالآخر کرکٹ ہی غالب آئی۔ انہوں نے اسے آئی سی سی کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادارے نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا کر اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں اب 15 فروری کو پاک بھارت میچ کے انعقاد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ورلڈکپ کے لیے “ون ون صورتحال”
راجیو شکلا کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کے میچ کھیلنے کے فیصلے سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ مزید کامیاب ایونٹ بننے جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال تمام فریقین کے لیے “ون ون” ہے، کیونکہ نہ صرف میچ ہوگا بلکہ شائقین کرکٹ کو بھی ایک بڑا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا اور ایونٹ کی ساکھ مزید مضبوط ہوگی۔
بنگلادیشی بورڈ کو بھی ریلیف
انہوں نے بنگلادیش کے حوالے سے کہا کہ مذاکرات کے دوران بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے تحفظات کو بھی سنا گیا اور انہیں ریلیف ملا، جس پر بی سی بی نے آئی سی سی کے کردار کو سراہا ہے۔ راجیو شکلا کے مطابق اس پیشرفت سے خطے میں کرکٹ کے فروغ اور باہمی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔
پس منظر
یاد رہے کہ حکومت پاکستان پہلے ہی قومی ٹیم کو 15 فروری 2026 کو بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میچ کھیلنے کی اجازت دے چکی ہے، جس کے بعد پاک بھارت مقابلے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہوگئی ہیں۔ عالمی کرکٹ حلقوں اور شائقین کی نظریں اب اس بڑے مقابلے پر مرکوز ہیں، جسے ایونٹ کا سب سے اہم میچ قرار دیا جا رہا ہے۔