واشنگٹن / لندن / اسلام آباد — مقبوضہ مغربی کنارے کی تازہ صورتحال پر عالمی سطح پر ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں امریکا، برطانیہ اور متعدد مسلم ممالک نے اسرائیلی اقدامات پر تشویش اور مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی پالیسیوں اور ممکنہ قبضے کے حوالے سے عالمی سفارتی محاذ پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
امریکی مؤقف: استحکام کو ترجیح
غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ خطے میں استحکام اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے بھی ضروری ہے۔ امریکی حکام کے مطابق فلسطینی علاقوں میں استحکام کا قیام مشرق وسطیٰ میں امن کے امریکی ہدف کے مطابق ہے، جس کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
برطانوی حکومت کی مذمت
دوسری جانب برطانیہ نے اسرائیلی کابینہ کے مغربی کنارے پر قبضے کو وسعت دینے کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ برطانوی حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔ لندن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسے فیصلوں کو فوری طور پر واپس لے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
مسلم ممالک کا مشترکہ ردعمل
ادھر پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی حقِ خودمختاری حاصل نہیں اور حالیہ اقدامات غیر قانونی الحاق اور فلسطینی عوام کی ممکنہ بے دخلی کی کوششوں کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔ مسلم ممالک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو ایسے اقدامات سے روکنے کے لیے فوری سفارتی دباؤ ڈالا جائے۔
خطے میں بڑھتی سفارتی سرگرمیاں
مغربی کنارے کی صورتحال پر عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور مختلف ممالک امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں عالمی فورمز پر اس مسئلے پر مزید بحث متوقع ہے، جبکہ خطے کی سلامتی اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں۔