ایران کی میزائل صلاحیت ریڈ لائن ہے، کسی مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گی: علی شمخانی کا دوٹوک مؤقف

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے واضح کیا ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیت قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہے اور اسے کسی بھی بین الاقوامی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی محدود جارحیت کو جنگ کے آغاز کے مترادف سمجھا جائے گا۔

اسلامی انقلاب کی سالگرہ پر خطاب

تہران میں اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی شمخانی نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی میزائل طاقت دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے اور اس حوالے سے بیرونی دباؤ قابل قبول نہیں۔

انہوں نے دشمن ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نوعیت کی فوجی کارروائی یا محدود حملہ بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے اور اسے براہ راست جنگ تصور کیا جائے گا۔

امریکا کو مذاکرات کا مشورہ

اپنے خطاب میں علی شمخانی نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو دھمکیوں اور دباؤ کی پالیسی کے بجائے سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے تصادم کے بجائے سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

علی شمخانی کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ بیانات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدامات کا عندیہ دیتے ہوئے خطے میں ایک اور بحری بیڑہ تعینات کرنے کی بات کی تھی۔

ماہرین کا تجزیہ

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل پروگرام کو مذاکرات سے الگ رکھنے کا مؤقف طویل عرصے سے برقرار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے سخت بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، تاہم سفارتی کوششیں صورتحال کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

Related posts

بنگلادیش میں عام انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری، 12 کروڑ سے زائد ووٹرز آج حق رائے دہی استعمال کریں گے

امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ: بھارتی کسان تنظیموں کا ملک گیر احتجاج اور 12 فروری کی ہڑتال کا اعلان

مغربی کنارے کی صورتحال پر عالمی ردعمل تیز، امریکا، برطانیہ اور مسلم ممالک کے بیانات سامنے آگئے