ڈھاکا — بنگلادیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کی پولنگ مکمل ہونے کے بعد ملک بھر میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ انتخابی حکام کے مطابق اس بار نتائج سامنے آنے میں معمول سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے کیونکہ پارلیمانی بیلٹ پیپر کے ساتھ ساتھ ایک اہم ریفرنڈم کے بیلٹ پیپر بھی گنے جا رہے ہیں اور امیدواروں کی تعداد بھی ماضی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
یہ انتخابات ایک اہم سیاسی پس منظر میں منعقد ہوئے ہیں، کیونکہ یہ طلبہ کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے تقریباً 18 ماہ بعد ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں دو دہائیوں پر محیط سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان انتخابات کو بنگلادیش کی سیاسی سمت کے تعین کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
سخت سیاسی مقابلہ متوقع
ابتدائی تجزیوں کے مطابق بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم مختلف اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کئی حلقوں میں مقابلہ انتہائی کانٹے دار ہوسکتا ہے، جس کے باعث نتائج کے اعلان میں مزید تاخیر بھی ممکن ہے۔
نتائج میں تاخیر کیوں؟
بنگلادیش الیکشن کمیشن کے مطابق اس بار گنتی کا عمل زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ:
• سفید رنگ کے پارلیمانی بیلٹ پیپر کے ساتھ جولائی کے قومی چارٹر سے متعلق ریفرنڈم کے لیے گلابی بیلٹ پیپر بھی شامل ہیں
• سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی تعداد زیادہ ہے
• بعض حلقوں میں ووٹر ٹرن آؤٹ بھی زیادہ رہا ہے
ماضی میں غیر سرکاری نتائج عام طور پر اگلی صبح سامنے آنا شروع ہو جاتے تھے، تاہم حکام نے اس بار نتائج میں تاخیر کا عندیہ دیا ہے۔
امن و امان اور دعاؤں کی اپیل
الیکشن کمیشن نے ملک بھر کی مساجد سے جمعہ کی نماز کے بعد امن، خوشحالی اور مسلسل ترقی کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی ہے۔ اس کے ساتھ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ مناسب اوقات میں دعائیہ اجتماعات کا اہتمام کریں تاکہ انتخابی عمل پُرامن ماحول میں مکمل ہو سکے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں سیاسی جماعتوں، امیدواروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انتخابی عملے، مبصرین، صحافیوں اور ووٹرز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے تعاون سے ایک آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدار انتخابی ماحول برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
ووٹنگ اور حلقوں کی تفصیل
الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے 64 اضلاع میں قائم 42 ہزار 761 پولنگ اسٹیشنز پر 300 میں سے 299 پارلیمانی حلقوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ خواتین کی نمائندگی کے لیے 50 مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں جو تناسبی نمائندگی کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہیں۔
نومبر 2025 میں جاری حتمی ووٹر لسٹ کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ 11 ہزار 793 ہے، جن میں 6 کروڑ 48 لاکھ 25 ہزار 361 مرد اور 6 کروڑ 28 لاکھ 85 ہزار 200 خواتین شامل ہیں۔
بیرونِ ملک ووٹرز کے لیے نئی سہولت
اس بار پہلی مرتبہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی سہولت فراہم کی گئی جس سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرونِ ملک مقیم بنگلادیشی شہری مستفید ہو رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے بیرونِ ملک ووٹرز کی سیاسی شرکت میں اضافہ متوقع ہے۔
پارلیمانی نظام
بنگلادیش کی پارلیمنٹ ایک ایوانی نظام پر مشتمل ہے جسے “جاتیا سنگسد” کہا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کے مجموعی ارکان کی تعداد 350 ہے جن میں سے 300 ارکان براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے اور نتائج کے اعلان کے بعد ملک کی نئی سیاسی سمت واضح ہوگی، جبکہ یہ انتخابات بنگلادیش کی حالیہ سیاسی تاریخ کے اہم ترین مراحل میں شمار کیے جا رہے ہیں۔