اسلام آباد — ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن بورڈ کے اہم اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا کا دورہ کریں گے، جہاں ان کے ہمراہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اعلیٰ سطح کا سرکاری وفد بھی موجود ہوگا۔ ترجمان کے مطابق اس دورے کے دوران وزیراعظم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی متوقع ہے جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور عالمی امن پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
خطے کی سکیورٹی اور داعش سے متعلق مؤقف
ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں داعش کی موجودگی سے متعلق شواہد اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ شیئر کیے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر تعاون جاری رکھے گا۔
بھارت سے آبی تنازع اور سندھ طاس معاہدہ
بھارت کے ساتھ جاری آبی معاملات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے نئے ڈیم کی تعمیر سے متعلق تفصیلات طلب کی ہیں اور زور دیا ہے کہ نئی دہلی یکطرفہ اقدامات سے گریز کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا پابند ہے اور اس معاہدے کی خلاف ورزی خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔
کھیل اور سفارتکاری سے متعلق مؤقف
کرکٹ سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کھیل کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے بعض مواقع پر کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ اسی اصول کے تحت کیا کہ کھیل کو سیاست یا دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مثبت سفارتکاری کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور عالمی سطح پر ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دنوں میں اہم سفارتی سرگرمیوں اور ملاقاتوں کے ذریعے پاکستان اپنے مؤقف کو مزید واضح کرے گا۔