تہران: ایران نے اپنے دفاعی میزائل پروگرام کو ایک بار پھر ناقابلِ مذاکرات قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق اس معاملے پر کسی قسم کی بیرونی دباؤ یا شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔ ایرانی قیادت کے سینئر مشیر علی شمخانی نے عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ میزائل پروگرام ایران کی خودمختاری اور دفاعی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے، اس لیے اسے کسی سفارتی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بعض عالمی طاقتوں کے بیانات کے تناظر میں ایرانی افواج کو مکمل الرٹ رکھا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا جارحانہ قدم اٹھایا گیا تو اس کا فوری، سخت اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
علی شمخانی نے بیرونی قوتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کسی بھی غلط اندازے یا غیر ذمہ دارانہ اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم اپنی سرزمین اور مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
سینئر ایرانی رہنما نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ اگر عالمی سطح پر بات چیت حقیقت پسندی، باہمی احترام اور غیر ضروری مطالبات سے گریز کے اصولوں پر کی جائے تو سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ ایسے مذاکرات کا حامی رہا ہے جو باہمی مفادات اور علاقائی استحکام کو فروغ دیں، لیکن قومی سلامتی کے بنیادی معاملات پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا حالیہ بیان خطے میں جاری سیاسی و عسکری تناؤ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تہران دفاعی معاملات میں سخت مؤقف برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں سفارتی پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ عالمی طاقتیں ایران کے سکیورٹی خدشات کو کس حد تک تسلیم کرتی ہیں اور مذاکرات کے لیے کس نوعیت کا فریم ورک اختیار کیا جاتا ہے۔