واشنگٹن: کمسن بچوں سے جنسی زیادتی اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات میں گرفتار بدنام زمانہ امریکی شخصیت جیفری ایپسٹین کی موت سے متعلق ایک بار پھر نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں بعض طبی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی موت ممکنہ طور پر خودکشی نہیں بلکہ گلا دبانے کے نتیجے میں ہوئی ہو سکتی ہے۔ تازہ انکشافات کے بعد ایپسٹین کیس دوبارہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے طبی تجزیوں اور دستاویزات میں یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ ایپسٹین کی گردن پر موجود زخموں کی نوعیت خودکشی کے روایتی واقعات سے مختلف ہو سکتی ہے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس دعوے پر باضابطہ مؤقف تاحال واضح نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایپسٹین سے مبینہ روابط کے انکشافات کے بعد عالمی لاجسٹکس کمپنی ڈی پی ورلڈ کے سربراہ سلطان احمد بن سلیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حالیہ جاری ہونے والی دستاویزات میں ان کا نام سامنے آیا تھا، جس میں مبینہ طور پر تشدد سے متعلق ویڈیو بھیجنے کے معاملے کا ذکر موجود تھا، تاہم اس حوالے سے مزید قانونی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین اگست 2019 میں امریکی جیل میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے، جس کے بعد سرکاری تحقیقات میں ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس فیصلے پر شروع سے ہی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں اور متعدد حلقے اس کیس کی مکمل شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔
حال ہی میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ایپسٹین سے متعلق نئی فائلز اور معلومات جاری کی گئیں، جن میں مبینہ روابط، قانونی معاملات اور مختلف شخصیات کے حوالے شامل ہیں۔ ان دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد عالمی سطح پر سیاسی، کاروباری اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کیس اب بھی کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے اور نئے انکشافات سامنے آنے سے مزید قانونی اور سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں مزید تحقیقات یا عدالتی پیش رفت کی صورت میں اس معاملے میں مزید اہم حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔