ڈھاکا: انتخابی کامیابی کے بعد طارق رحمان کی بنگلادیش جماعت اسلامی کے امیر سے ملاقات

ڈھاکا: بنگلادیش کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں واضح کامیابی کے بعد بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان نے جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان سے ان کے رہائشی دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کو ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

“مستقبل کے وزیراعظم” کو پیشگی مبارکباد

ملاقات کے بعد جاری بیان میں ڈاکٹر شفیق الرحمان نے طارق رحمان کو “بنگلادیش کے مستقبل کے وزیراعظم” کے طور پر پیشگی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی آمد قومی سیاست کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔

انہوں نے کہا:

“میرا خواب ایک ایسے بنگلادیش کا ہے جو فسطائیت سے پاک، خودمختار اور عدل و انصاف کی بنیاد پر قائم ہو۔”

تشدد کی روک تھام پر یقین دہانی

جماعت اسلامی کے امیر کے مطابق طارق رحمان نے انتخابات کے بعد ہونے والے مبینہ تشدد، اپوزیشن کارکنوں اور اقلیتی برادریوں پر حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اس یقین دہانی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو خوف یا عدم تحفظ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے اور قانون کی حکمرانی ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہیے۔

تعاون اور نظریاتی اپوزیشن

انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی قومی مفاد کے معاملات میں منتخب حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی، تاہم نظریاتی اپوزیشن کے طور پر اپنے آئینی کردار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان مستقبل میں پارلیمنٹ کے اندر تعاون اور تنقیدی سیاست کے توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔

انتخابی نتائج کی صورتحال

الیکشن کمیشن بنگلادیش کے جاری کردہ سرکاری نتائج کے مطابق:
• بنگلادیش نیشنلِسٹ پارٹی نے 299 میں سے 209 نشستیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔
• جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔
• طلبہ کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی نے 6 نشستیں حاصل کی ہیں۔

نتائج کے بعد بی این پی حکومت سازی کی پوزیشن میں آچکی ہے اور آئندہ چند روز میں نئی حکومت کی تشکیل متوقع ہے۔

آگے کا منظرنامہ

تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلادیش کو اس وقت سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور داخلی ہم آہنگی جیسے اہم چیلنجز درپیش ہیں۔ نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوگا کہ وہ انتخابی وعدوں کو کس حد تک عملی جامہ پہناتی ہے اور ملک میں سیاسی کشیدگی کو کم کرنے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔

ملک اور بیرون ملک سیاسی حلقوں کی نظریں اب حکومت سازی کے عمل اور آئندہ پالیسی سمت پر مرکوز ہیں۔

Related posts

کولمبو میں محسن نقوی کی مصروفیات، سری لنکن قیادت سے سکیورٹی، امیگریشن اور کھیلوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

باراک اوباما کی ’ایلیئنز‘ سے متعلق گفتگو وائرل، سابق امریکی صدر کی وضاحت سامنے آگئی

ویانا میں وزیراعظم شہباز شریف کا پرتپاک استقبال، آسٹرین چانسلر سے اہم ملاقاتیں