میونخ سکیورٹی کانفرنس میں اہم اشارہ: ٹرمپ ایران سے معاہدے کے خواہاں، خامنہ ای سے ملاقات بھی ممکن

میونخ: مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای براہِ راست ملاقات کی خواہش ظاہر کریں تو صدر ٹرمپ اس کے لیے تیار ہوں گے۔

میونخ سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر ایک انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا مؤقف واضح ہے کہ عالمی تنازعات کا پائیدار حل عسکری تصادم کے بجائے سفارتی مکالمے کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ ان کے بقول، “صدر کسی بھی رہنما سے بات کرنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں، چاہے اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں۔”

ملاقات اختلاف کا اعتراف نہیں، سفارت کاری کا حصہ

روبیو نے واضح کیا کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای صدر ٹرمپ سے ملاقات کی درخواست کریں تو ایسی ملاقات کا انعقاد ممکن ہے۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ امریکہ ایرانی پالیسیوں سے متفق ہے، بلکہ یہ ایک سفارتی عمل ہوگا جس کا مقصد کشیدگی میں کمی اور مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ سمجھتی ہے کہ براہِ راست رابطہ بعض اوقات پیچیدہ تنازعات میں پیش رفت کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں علاقائی استحکام اور عالمی سلامتی داؤ پر لگی ہو۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری موجودگی

وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کے فیصلے کو “احتیاطی اقدام” قرار دیا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کو کسی ایسے قدم سے روکنا ہے جو خطے میں بڑے تصادم کا باعث بن سکتا ہو۔

روبیو نے کہا کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے دفاع اور عالمی بحری راستوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، تاہم واشنگٹن کسی نئے تنازع کا خواہاں نہیں۔ انہوں نے کہا، “ہم طاقت کے ذریعے امن کو یقینی بنانا چاہتے ہیں، لیکن ترجیح ہمیشہ سفارت کاری ہی رہے گی۔”

ممکنہ معاہدے کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے؟

اگرچہ روبیو نے کسی ممکنہ معاہدے کی تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم مبصرین کے مطابق ایسے کسی بھی فریم ورک میں ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سرگرمیوں اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی جیسے امور شامل ہو سکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر براہِ راست ملاقات ہوتی ہے تو یہ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی متعدد تنازعات کا شکار ہے۔

سفارت کاری یا دباؤ کی حکمت عملی؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی بیک وقت سفارت کاری اور عسکری تیاری پر مبنی دکھائی دیتی ہے—ایک طرف مذاکرات کی پیشکش، دوسری جانب خطے میں دفاعی موجودگی کا استحکام۔ اس دوہری حکمت عملی کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا اور ممکنہ کشیدگی کو محدود رکھنا بتایا جا رہا ہے۔

فی الحال ایران کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم عالمی برادری کی نظریں واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

Related posts

کولمبو میں محسن نقوی کی مصروفیات، سری لنکن قیادت سے سکیورٹی، امیگریشن اور کھیلوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

باراک اوباما کی ’ایلیئنز‘ سے متعلق گفتگو وائرل، سابق امریکی صدر کی وضاحت سامنے آگئی

ویانا میں وزیراعظم شہباز شریف کا پرتپاک استقبال، آسٹرین چانسلر سے اہم ملاقاتیں