لندن: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل یا رعایت کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ “نہ کوئی ڈیل ہے اور نہ ڈھیل”، یہ تمام باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کی تکلیف کے معاملے کو سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور غیر ضروری سنسنی پھیلائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ قیدی کو مناسب طبی سہولت فراہم کی جائے، جو فراہم کی گئی۔
“صحت بہتر ہے، مسئلہ حل ہوچکا”
عطا تارڑ نے کہا کہ عمران خان کی صحت کا تفصیلی معائنہ طبی ماہرین نے کیا اور اس حوالے سے ان کی جماعت کے رہنماؤں کو باضابطہ بریفنگ بھی دی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صحت سے متعلق جو مسئلہ زیر بحث تھا، وہ حل ہوچکا ہے اور اس وقت عمران خان کی حالت تسلی بخش ہے۔
انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست نہ کریں اور اس انسانی مسئلے کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔
پی ٹی آئی کا مؤقف: مطالبات پورے نہیں ہوئے
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق حکومت نے ان کا کوئی بنیادی مطالبہ پورا نہیں کیا۔
اپنے بیان میں سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کے مطالبات میں کسی میڈیکل رپورٹ کا اجرا شامل نہیں تھا بلکہ اصل مطالبہ یہ تھا کہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالج تک رسائی دی جائے اور انہیں اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک آئینی اور قانونی حق ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے ذاتی ڈاکٹر سے علاج کروائے۔ ان کا سوال تھا کہ اگر حکومت سب کچھ شفاف انداز میں کر رہی ہے تو پھر ذاتی معالج کو اجازت نہ دے کر کیا چھپایا جا رہا ہے؟
سیاسی درجہ حرارت برقرار
حکومتی وضاحت اور اپوزیشن کے اعتراضات کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک طرف حکومت اسے محض طبی سہولت کی فراہمی کا معاملہ قرار دے رہی ہے، تو دوسری جانب پی ٹی آئی اسے بنیادی حقوق اور شفافیت کا مسئلہ بنا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید بیانات اور ردِعمل سامنے آنے کا امکان ہے، تاہم فی الحال حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے مؤقف پر قائم دکھائی دیتے ہیں۔