وزیراعظم Shahbaz Sharif سے آج ویانا انٹرنیشنل سینٹر میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ Rafael Mariano Grossi نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور عالمی جوہری ادارے کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
یہ ملاقات International Atomic Energy Agency کے ہیڈکوارٹر واقع Vienna International Centre میں ہوئی۔
اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ Ishaq Dar، وزیر اطلاعات Attaullah Tarar، معاون خصوصی Tariq Fatemi اور سیکرٹری خارجہ Amna Baloch بھی شریک تھیں۔
جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال پر زور
وزیراعظم نے ملاقات کے دوران کینسر کی تشخیص و علاج، زراعت، نیوکلیئر پاور جنریشن اور صنعتی شعبوں میں جوہری ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ اور پرامن استعمال کے فروغ کے لیے آئی اے ای اے کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف آئی اے ای اے کے تکنیکی تعاون پروگرام سے مستفید ہو رہا ہے بلکہ اپنے ماہرین فراہم کر کے اور رکن ممالک کے لیے بین الاقوامی تربیتی پروگرام منعقد کر کے ادارے کے کام میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
آئی اے ای اے کی جانب سے پاکستان کی تعریف
ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال میں پاکستان کے تجربے اور مہارت کو سراہا۔ انہوں نے پاکستانی انجینئرز، سائنسدانوں اور تکنیکی ماہرین کے اعلیٰ معیار کا اعتراف کیا۔
انہوں نے جوہری تحفظ اور سلامتی کے شعبوں میں پاکستان کے تعاون کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دیگر رکن ممالک کی معاونت کے لیے ایک موزوں شراکت دار ہے۔
رافیل گروسی نے مارچ 2026 میں فرانس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے نیوکلیئر انرجی سمٹ میں پاکستان کی فعال شرکت کی امید بھی ظاہر کی۔
INMOL لاہور کو آئی اے ای اے تعاون مرکز نامزد
ملاقات کے بعد ایک اہم پیش رفت کے طور پر Institute of Nuclear Medicine and Oncology (INMOL) کو آئی اے ای اے کے تعاون کے مرکز (Collaborating Centre) کے طور پر نامزد کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
پاکستان کی جانب سے اس معاہدے پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار جبکہ آئی اے ای اے کی جانب سے ڈی جی گروسی نے دستخط کیے۔
یہ پیش رفت پاکستان کے طبی اور سائنسی شعبے کے لیے اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے، خصوصاً کینسر کے علاج اور جوہری طبی تحقیق کے میدان میں۔
پاکستان اور آئی اے ای اے کی شراکت داری
پاکستان اور آئی اے ای اے کے درمیان دہائیوں پر محیط تعاون موجود ہے، جس میں توانائی، صحت، زراعت اور صنعتی ترقی جیسے شعبے شامل ہیں۔
مبصرین کے مطابق یہ ملاقات پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ اور جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال سے متعلق عزم کو مزید مستحکم کرتی ہے۔