ویانا: وزیراعظم Shahbaz Sharif نے کہا ہے کہ غیرحل شدہ سیاسی تنازعات عالمی صورتحال کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کررہے ہیں اور سفارتکاری، بات چیت اور مکالمہ ہی تنازعات کے تدارک کا واحد مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار ترقی کو عدل و انصاف پر مبنی ہونا چاہیے، بصورت دیگر عالمی امن ایک خواب ہی رہے گا۔
وہ منگل کو United Nations کے زیر اہتمام ویانا میں منعقدہ خصوصی تقریب بعنوان ’’پائیدار ترقی، عالمی امن و خوشحالی کا راستہ‘‘ سے خطاب کررہے تھے۔ تقریب کا انعقاد Vienna International Centre میں کیا گیا۔
دنیا چوراہے پر کھڑی ہے
وزیراعظم نے کہا کہ آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں جغرافیائی و سیاسی کشیدگیاں، موسمیاتی بحران، غربت، قرضوں کا بوجھ اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی جیسے عوامل مل کر ایک پیچیدہ عالمی بحران کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی عالمی آبادی تیزی سے قدرتی وسائل کو ختم کررہی ہے جبکہ غیرحل شدہ سیاسی تنازعات حالات کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
موسمیاتی انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں
وزیراعظم نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک ماحولیاتی آلودگی میں کم سے کم حصہ ڈالتے ہیں مگر موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ اثرات برداشت کررہے ہیں۔
انہوں نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قدرتی آفت نے ہزاروں جانیں لیں، لاکھوں گھر تباہ کیے اور معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی کو انصاف اور منصفانہ وسائل کی تقسیم پر مبنی ہونا چاہیے کیونکہ انہی اصولوں کے بغیر عالمی امن کا قیام ممکن نہیں۔
اقوام متحدہ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت
وزیراعظم نے کہا کہ کثیرالجہتی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور اقوام متحدہ کو پہلے سے زیادہ مضبوط، وسائل سے لیس اور اصلاح شدہ بنانا ہوگا تاکہ وہ عالمی تعاون کا مرکزی ستون بن سکے۔
انہوں نے کہا کہ ویانا عالمی گورننس کے اہم ستونوں کا مرکز ہے جہاں انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، صنعتی ترقی اور جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال جیسے شعبوں میں کام ہورہا ہے۔
پاکستان کی عالمی اداروں سے شراکت داری
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان International Atomic Energy Agency،
United Nations Industrial Development Organization (یونائیڈو) اور
United Nations Office on Drugs and Crime کے ساتھ اپنے تعمیری تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان اداروں کے مینڈیٹ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی، علم کے تبادلے اور صلاحیتوں میں اضافہ ناگزیر ہے تاکہ مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں، نہ کہ صرف چند مراعات یافتہ طبقات کے لیے۔
معاہدوں پر دستخط
تقریب کے موقع پر پاکستان اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے مابین متعدد تعاون کے معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے، جن میں:
• یونائیڈو کا کنٹری پارٹنرشپ پروگرام (2025–2030)
• یو این او ڈی سی کنٹری پروگرام
• انسٹیٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکالوجی (INMOL) لاہور اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون
شامل ہیں۔
عالمی اداروں کے سربراہان کا اظہار خیال
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل Rafael Mariano Grossi نے پاکستان کے ساتھ تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ کینسر کے علاج اور ’’ریس آف ہوپ‘‘ منصوبے میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین ہے۔
یو این او ڈی سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر Ghada Waly نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ 50 سالہ شراکت داری انسداد منشیات، سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر محیط ہے۔
یونائیڈو کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل Yuko Yasunaga نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی اور تزویراتی محل وقوع اسے عالمی اہمیت کا حامل ملک بناتے ہیں، جبکہ گرین ٹیکنالوجی اور کم کاربن صنعتوں کی ترقی مستقبل کی ضرورت ہے۔
مکالمہ ہی واحد راستہ
وزیراعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ دنیا کے زخموں پر عارضی مرہم رکھنے کے بجائے انہیں مستقل طور پر مندمل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مکالمہ، سفارتکاری اور کثیرالجہتی تعاون ہی تنازعات کو روکنے اور عالمی امن و خوشحالی کے قیام کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔