انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں تنازع: نجی یونیورسٹی کو اسٹال خالی کرنے کا حکم

نئی دہلی: بھارت کے مرکزی مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمٹ میں ایک نجی یونیورسٹی کو اس وقت اپنا اسٹال خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا جب یہ انکشاف ہوا کہ جس روبوٹ کو یونیورسٹی کی تخلیق قرار دیا جا رہا تھا وہ دراصل چینی کمپنی کا تیار کردہ ماڈل ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق Galgotias University کی کمیونیکیشنز پروفیسر نہا سنگھ نے سرکاری نشریاتی ادارے DD News سے گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ ’اورین‘ نامی روبوٹ یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسیلنس کی تیاری ہے۔

سوشل میڈیا پر انکشاف

تاہم سوشل میڈیا صارفین نے جلد نشاندہی کی کہ مذکورہ روبوٹ دراصل چینی کمپنی Unitree Robotics کا تیار کردہ ماڈل Unitree Go2 ہے، جو تقریباً 2800 ڈالر میں عالمی مارکیٹ میں دستیاب ہے اور تحقیق و تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

معاملہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب بھارت کے آئی ٹی وزیر Ashwini Vaishnaw نے اس روبوٹ کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی، تاہم تنقید بڑھنے پر پوسٹ حذف کر دی گئی۔

وضاحت اور ردعمل

بعد ازاں گلگوٹیاس یونیورسٹی اور نہا سنگھ کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی کہ روبوٹ یونیورسٹی کی اپنی تخلیق نہیں تھا اور ادارے نے باضابطہ طور پر ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔

اس واقعے پر سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے، اور اسے بھارت کے اے آئی عزائم کے لیے شرمندگی کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی ردعمل

بھارت کی اپوزیشن جماعت Indian National Congress نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ متاثر کی ہے۔

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ

نئی دہلی میں جاری India AI Impact Summit کو گلوبل ساؤتھ کی پہلی بڑی اے آئی کانفرنس قرار دیا جا رہا ہے، جو ہفتے تک جاری رہے گی۔

سمٹ کے دوران بھارت میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے لیے 100 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کے اعلانات کیے گئے ہیں، جن میں Adani Group, Microsoft اور ڈیٹا سینٹر کمپنی یوٹا کی سرمایہ کاری شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق اے آئی جیسے حساس اور تیزی سے ابھرتے ہوئے شعبے میں شفافیت اور درست معلومات کی فراہمی نہایت اہم ہے، کیونکہ اس نوعیت کے واقعات بین الاقوامی سطح پر ملک کے ٹیکنالوجی امیج کو متاثر کر سکتے ہیں۔

Related posts

ویانا میں وزیراعظم کا خطاب: غیرحل شدہ تنازعات دنیا کو بارود کے ڈھیر میں بدل رہے ہیں

وزیراعظم شہباز شریف کی آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات، جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال پر تعاون بڑھانے پر اتفاق

بنگلادیش: بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے بطور وزیراعظم حلف اٹھا لیا