واشنگٹن: وزیرِ اعظم شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکہ کے دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ آج منعقد ہونے والے “بورڈ آف پیس” کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ دورہ پاکستان کی عالمی سفارتی سرگرمیوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس میں عالمی امن، علاقائی استحکام اور دوطرفہ تعاون کے امور زیر بحث آئیں گے۔
اعلیٰ سطحی وفد ہمراہ
وزیرِ اعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی امریکہ پہنچا ہے، جس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔ وفد کی موجودگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دورے کے دوران سیاسی، معاشی اور سفارتی معاملات پر جامع بات چیت متوقع ہے۔
بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت
وزیرِ اعظم آج واشنگٹن میں منعقدہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں عالمی امن و سلامتی، تنازعات کے حل، اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستان کی اس فورم میں شمولیت کو عالمی سطح پر اس کے مؤثر کردار اور امن کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام سے ملاقاتیں متوقع
دورے کے دوران وزیرِ اعظم کی اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارتی و اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کا خواہاں ہے، جبکہ امریکہ بھی خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو اہمیت دیتا ہے۔
سفارتی اہمیت
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیرِ اعظم کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں پیش رفت کا موقع فراہم کرے گا بلکہ عالمی امن کے حوالے سے پاکستان کے فعال اور ذمہ دارانہ کردار کو بھی اجاگر کرے گا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بورڈ آف پیس میں شرکت پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی کامیابیوں اور عالمی برادری میں اس کے مثبت امیج کی عکاسی کرتی ہے۔