واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا غزہ کے عوام کے لیے “روشن مستقبل” چاہتا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔ وہ واشنگٹن میں منعقدہ غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی شریک ہوئے۔
اجلاس سے قبل United States Institute of Peace میں عالمی رہنماؤں کے ہمراہ صدر ٹرمپ کا گروپ فوٹو سیشن بھی ہوا۔ اجلاس میں چین، روس اور برطانیہ سمیت سلامتی کونسل کے مستقل اراکین شریک نہیں تھے۔
غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے بڑے مالی اعلانات
صدر ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ غزہ کی تعمیرِ نو اور استحکام کے لیے مختلف ممالک اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور اب تک 7 ارب ڈالر سے زائد فراہم کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا غزہ کی بحالی کے لیے 10 ارب ڈالر دے گا، جبکہ فیفا بھی منصوبوں کے لیے 75 ملین ڈالر جمع کرنے میں معاونت کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد ایسا غزہ دیکھنا ہے جہاں مؤثر طرزِ حکمرانی ہو اور انتہاپسندی کا خاتمہ ہو جائے۔
ٹرمپ نے کہا کہ “ایسا لگ رہا ہے کہ حماس اپنے ہتھیار چھوڑ دے گی” اور امید ظاہر کی کہ غزہ مزید دہشت گردی کا گڑھ نہیں رہے گا۔
اقوامِ متحدہ کا کردار
امریکی صدر نے کہا کہ وہ جلد اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بات کریں گے تاکہ عالمی ادارہ مؤثر انداز میں کام کر سکے۔
ان کے مطابق اقوامِ متحدہ غزہ کے لیے 2 ارب ڈالر جمع کر رہا ہے اور چین و روس بھی اس عمل میں شامل ہوں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ “دنیا میں امن سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں” اور غزہ پیس بورڈ کو پائیدار امن کے لیے ایک منفرد اور مضبوط فورم قرار دیا۔
ایران سے متعلق سخت پیغام
ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ تہران کے ساتھ “اچھی بات چیت” جاری ہے اور امریکا بامعنی معاہدہ چاہتا ہے، تاہم ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج سنگین ہوں گے، جبکہ آئندہ دس دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔
پاک بھارت کشیدگی پر تبصرہ
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ شدت اختیار کر رہی تھی مگر امریکا نے کردار ادا کرتے ہوئے اسے روکا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی وزیر اعظم کو ٹیرف سے متعلق سخت پیغام دیا گیا تھا اور کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران 11 جیٹ طیارے گرائے گئے۔
ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہوئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے فیلڈ مارشل کو “عظیم شخصیت اور بہترین فائٹر” قرار دیا۔
عالمی امن پر زور
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں ختم کرائیں اور نویں جنگ بھی اختتام کے قریب ہے۔ ان کے مطابق غزہ پیس بورڈ میں دنیا کے اہم ممالک شامل ہیں اور اپنے اہداف کے اعتبار سے اس کا کوئی متبادل نہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں استحکام، تعمیرِ نو اور سفارتی حل کو ترجیح دے گا تاکہ غزہ کے عوام کو محفوظ اور روشن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔