واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ دس روز میں ایران کے حوالے سے صورتحال واضح ہو جائے گی، اور اگر تہران نے بامعنی معاہدہ نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کسی صورت ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب
امریکی صدر نے یہ بیان غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ایران تصادم کی بجائے امن کے راستے کا انتخاب کرے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور ایک بامعنی اور پائیدار معاہدہ چاہتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے تعاون نہ کیا تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا:
“تقریباً 10 دنوں میں ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ ایران کس سمت جا رہا ہے۔ ہمیں ایران کے ساتھ کچھ اہم معاملات طے کرنے ہیں، اور انہیں معاہدہ کرنا ہوگا۔”
مشرقِ وسطیٰ میں امن اور جوہری پروگرام
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں گے تو خطے میں امن ممکن نہیں رہے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا اور اس کے اتحادی مشرقِ وسطیٰ میں استحکام چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے سخت فیصلے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت مثبت سمت میں جا رہی ہے، لیکن حتمی نتیجہ آئندہ چند دنوں میں سامنے آئے گا۔
غزہ کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر کی امداد
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا غزہ کے عوام کے لیے روشن مستقبل چاہتا ہے۔ ان کے مطابق غزہ کی تعمیر نو اور استحکام کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے 7 ارب ڈالر سے زائد کی امداد دی جا چکی ہے، جبکہ امریکا اضافی 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کے تحت حماس کو اپنے ہتھیار حوالے کرنا ہوں گے تاکہ غزہ کو انتہاپسندی اور دہشت گردی سے پاک کیا جا سکے۔
پاکستان کی نمائندگی
غزہ امن بورڈ کے اس اہم اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی Shehbaz Sharif کر رہے ہیں۔ اجلاس کے آغاز سے قبل صدر ٹرمپ نے شرکا سے غیر رسمی گفتگو کی، اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے بھی خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔
سفارتی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس نہ صرف غزہ کی بحالی بلکہ ایران سے متعلق جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ آئندہ دس روز خطے کی سیاست میں اہم پیش رفت کا سبب بن سکتے ہیں۔