نیویارک میں واقع تاریخی روز ویلٹ ہوٹل کی بحالی اور ترقی کے لیے پاکستان اور امریکا نے باضابطہ تعاون شروع کر دیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق اس اہم منصوبے پر دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جس سے پاک۔امریکا اقتصادی تعلقات میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط
وزارت خزانہ کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر پاکستان کی جانب سے وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb جبکہ امریکا کی طرف سے ایڈمنسٹریٹر ایڈورڈ سی فورسٹ نے دستخط کیے۔
اس موقع پر وزیر اعظم Shehbaz Sharif اور امریکی نمائندہ خصوصی Steve Witkoff بھی موجود تھے، جس سے اس منصوبے کی سفارتی اور اقتصادی اہمیت مزید واضح ہو گئی۔
جامع فریم ورک پر اتفاق
اعلامیے کے مطابق روز ویلٹ ہوٹل کے آپریشن اور ترقی کے لیے ایک جامع فریم ورک طے پا گیا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت ہوٹل کی تجدید، اپ گریڈیشن اور تجارتی امکانات کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے گا۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس ایم او یو کے ذریعے تکنیکی اور تجارتی ہم آہنگی ممکن ہوگی، جس سے منصوبے کی شفافیت اور پائیداری کو یقینی بنایا جائے گا۔
اقتصادی تعاون میں نئی سمت
حکام کے مطابق روز ویلٹ ہوٹل کی اپ گریڈیشن کے لیے پاک۔امریکا شفاف تعاون پر اتفاق ہوا ہے، اور مشترکہ فریم ورک کے ذریعے ہوٹل کی قدر میں اضافہ کیا جائے گا۔
ماہرین کے نزدیک یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک قیمتی اثاثے کی بحالی کا موقع فراہم کرے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو بھی نئی سمت دے گا۔
روز ویلٹ ہوٹل منصوبہ مستقبل میں سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور باہمی اعتماد کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے، جسے پاک۔امریکا تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔