لندن: برطانوی پولیس نے بادشاہ چارلس سوم کے بھائی پرنس اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو ان کی 66ویں سالگرہ کے روز گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کی خبر سامنے آتے ہی برطانیہ کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔
پولیس کے مطابق گرفتاری اختیارات کے مبینہ غلط استعمال اور حساس سرکاری دستاویزات تک غیر مجاز رسائی سے متعلق الزامات کے تحت عمل میں آئی۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ پرنس اینڈریو سے تفتیش جاری ہے، تاہم مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے تک جاری نہیں کی جائیں گی۔
ایپسٹین سے تعلقات ایک بار پھر زیرِ بحث
پرنس اینڈریو کا نام ماضی میں امریکی جنسی مجرم Jeffrey Epstein کے ساتھ تعلقات کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ چکا ہے۔ ان روابط کے انکشاف کے بعد شاہی خاندان کو سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تازہ الزامات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اینڈریو نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے حساس معلومات تک رسائی حاصل کی اور انہیں غیر متعلقہ افراد تک پہنچایا۔ تاہم ان الزامات کی نوعیت اور ثبوتوں کی تفصیل تاحال منظرِ عام پر نہیں آئی۔
حراست کا قانونی طریقہ کار
ماہرین قانون کے مطابق برطانیہ میں کسی بھی مشتبہ شخص کو ابتدائی طور پر 24 گھنٹے تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے، جسے مخصوص حالات میں 96 گھنٹے تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سینئر پولیس افسران اور مجسٹریٹس کی عدالت سے توسیع درکار ہوتی ہے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پولیسنگ امور کے ایک ماہر نے بتایا کہ پرنس اینڈریو کو عام ملزمان کی طرح کسٹڈی سویٹ کی ایک سادہ کوٹھری میں رکھا جائے گا، جہاں بنیادی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور کوئی خصوصی رعایت نہیں دی جاتی۔
تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گرفتاری کس وقت عمل میں آئی اور انہیں کس مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
شاہی حیثیت میں پہلے ہی کمی
یاد رہے کہ برطانوی بادشاہ Charles III ماضی میں پرنس اینڈریو سے سرکاری اور اعزازی ذمہ داریاں واپس لے چکے ہیں، جبکہ انہیں فعال شاہی کردار سے بھی الگ کر دیا گیا تھا۔
شاہی مبصرین کے مطابق حالیہ پیش رفت شاہی خاندان کے لیے مزید دباؤ کا باعث بن سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بادشاہت عوامی اعتماد کی بحالی کی کوششوں میں مصروف ہے۔
سالگرہ کا دن، مگر غیر معمولی حالات
واضح رہے کہ آج ہی کے دن پرنس اینڈریو 66 برس کے ہو گئے، تاہم یہ سالگرہ ان کے لیے غیر معمولی اور قانونی پیچیدگیوں سے بھرپور ثابت ہوئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ پولیس یا تو فردِ جرم عائد کرے گی یا مزید تحقیقات کے بعد رہائی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
برطانوی عوام اور عالمی میڈیا کی نظریں اب اس کیس کی آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں، جو شاہی خاندان کی ساکھ اور برطانوی سیاست پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔