واشنگٹن: غزہ پیس بورڈ کے پہلے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر Donald Trump اور پاکستانی وزیر اعظم Shehbaz Sharif کے درمیان غیر معمولی گرمجوشی دیکھنے میں آئی، جب صدر ٹرمپ نے اجلاس کے دوران شہباز شریف سے مصافحہ کے بعد انہیں گلے لگا لیا۔
یہ منظر اجلاس میں موجود عالمی رہنماؤں اور سفارتی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گیا اور بعد ازاں میڈیا میں بھی نمایاں طور پر رپورٹ کیا گیا۔
اجلاس میں صدر ٹرمپ کی پاکستان کی تعریف
غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے پاکستان اور اس کے رہنماؤں کی تعریف کرتے ہوئے کہا:
“میں وزیراعظم شہباز شریف کو پسند کرتا ہوں۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایک عظیم جنرل اور بہترین شخصیت ہیں۔ مجھے ٹف اور مضبوط فائٹر پسند ہیں، اور وہ بہترین فائٹر ہیں۔”
صدر نے اس موقع پر پاک بھارت کشیدگی اور اس وقت امریکی کردار کا بھی ذکر کیا۔
پاک بھارت جنگ میں امریکی کردار
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران 11 طیارے مار گرائے گئے اور جنگ شدت اختیار کر رہی تھی۔
“ہم نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ملکوں کو واضح پیغام دیا کہ اگر لڑائی نہ روکی گئی تو تجارتی معاہدوں پر دو سو فیصد ٹیرف عائد کر دیے جائیں گے اور کوئی بھی تجارتی معاہدہ نہیں ہوگا۔ اس انتباہ کے بعد دونوں ملکوں نے لڑائی روک دی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہوئے، جن کے مطابق امریکی اقدامات سے تقریباً 25 ملین زندگیاں بچائی گئیں، اور حقیقت میں یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی تھی۔
اجلاس کے اختتام پر غیر رسمی ملاقات
غزہ پیس بورڈ کے اجلاس کے اختتام پر صدر ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان غیر رسمی گفتگو بھی ہوئی، جس میں صدر نے پاکستانی قیادت اور فوجی رہنماؤں کے حوالے سے اپنی گرمجوشی کا اظہار کیا۔
سفارتی مبصرین کے مطابق یہ غیر رسمی ملاقات اور صدر ٹرمپ کی جذباتی گرمجوشی، دونوں ملکوں کے تعلقات کی موجودہ نزدیکی اور اعتماد کا مظہر ہے، اور اس لمحے نے اجلاس کی رسمی کارروائی میں بھی خوشگوار ماحول پیدا کیا۔
عالمی توجہ کا مرکز
یہ غیر معمولی منظر نہ صرف اجلاس میں موجود رہنماؤں کے لیے یادگار رہا بلکہ عالمی میڈیا اور سیاسی تجزیہ کاروں کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہوئی۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے دوستانہ اور غیر رسمی اشارے دو طرفہ تعلقات میں اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں اور مستقبل میں تعاون کے مواقع بڑھاتے ہیں۔